.

20 جولائی تک جوہری معاہدہ طے پا جائے گا: حسن روحانی

دیرینہ متنازعہ امور کے چند ایک اجلاسوں میں طے پانے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کے نتیجے میں 20 جولائی کی ڈیڈ لائن تک ایک جامع معاہدہ طے پا جائے گا۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو چین کے شہر شنگھائی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جولائی کے آخر تک سمجھوتا طے پانے کا بہت زیادہ امکان ہے اور ہم مقررہ تاریخ تک ایسا کرسکتے ہیں''۔

انھوں نے یہ بیان ویانا میں گذشتہ ہفتے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات کے چوتھے بے نتیجہ دور کے بعد جاری کیا ہے۔ ان مذاکرات میں ایران کے جوہری تنازعے سے متعلق حتمی معاہدے کے مجوزہ مسودے پر غور کیا گیا تھا لیکن فریقین کے درمیان متنازعے امور کو طے کرنے کے لیے اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بعض دیرینہ تصفیہ طلب امور کے حل سے اتفاق کیا ہے اور وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول سے متعلق عالمی طاقتوں کی تشویش کو دور کرنے کے لیے 25 اگست تک عملی اقدامات کرے گا۔

تاہم ایرانی صدر نے چین میں علاقائی سکیورٹی فورم میں شرکت کے بعد کہا کہ تصفیہ طلب امور کو طے کرنے کے لیے وقت لگے گا اور ہم یہ توقع نہیں کرسکتے کہ تمام متنازعہ امور چند ایک اجلاسوں ہی میں طے ہو جائیں گے۔