بشار کی صدارتی کامیابی پر ایران کی لیٹ مبارکباد!
میدان جنگ کے ساتھی سیاسی محاذ پر فاصلہ رکھنے لگے
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے شام میں صدارتی انتخابات کے چار روز بعد متنازعہ طریقے سے تیسری ٹرم میں صدر منتخب ہونے والے بشارالاسد کو مبارک باد پیش کی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی"ایرنا" کے مطابق صدر حسن روحانی نے ایک برقی پیغام میں شام میں صدارتی انتخابات کے انعقاد اور بشارالاسد کی تیسری بار کامیابی پر انہیں اور پوری شامی قوم کو مبارک باد پیش کی۔
حسن روحانی نے اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "صدارتی انتخابات میں آپ کی فتح اس بات کی عکاس ہے کہ آپ کی مزاحمت پسند قوم سیاسی میدان میں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے"۔
ایران میں فارسی زبان کے ایک نیوز ویب پورٹل "دیغربان" کے مطابق بشارالاسد کی متنازعہ صدارتی انتخابات میں کامیابی پرانہیں مختلف سربراہان مملکت کی جانب سے تہینتی پیغامات کی موصولی پچھلے تین روز سے جاری تھی لیکن ایرانی صدر کی جانب سے اس میں تاخیر کی گئی اور چوتھے روز انہیں مبارک باد کا پیغام بھیجا گیا ہے۔ یوں حسن روحانی آخری شخصیت ہیں جنہوں نے بشارالاسد کی کامیابی پرانہیں مبارک باد پیش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی گارڈین کونسل کے چیئرمین اور سابق صدر ڈاکٹر ھاشمی رفسنجانی ایران کی واحد اہم ترین شخصیت ہیں جنہوں نے بشارالاسد کی کامیابی پر انہیں ابھی تک مبارک باد پیش نہیں کی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کی قیادت اور دیگر اہم سیاسی رہ نماؤں کی جانب سے بشارالاسد کو تیسری ٹرم میں صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے۔
خیال رہے کہ شام میں تین جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پر ایران نے مجلس شوریٰ کی قومی سلامتی وخارجہ کمیٹی کے چیئرمین علاء الدین بروجردی کی قیادت میں ایک دمشق بھیجا تھا جو انتخابی عمل میں مانیٹرنگ کرتا رہا ہے۔ بشارالاسد کی کامیابی کے اعلان کے بعد اس وفد نے ان سے ملاقات بھی کی اور انہیں تیسری مرتبہ سات سال کے لیے صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی۔
-
بشارالاسد 88.7 فی صد ووٹوں کے ساتھ فتح یاب
ووٹ ڈالنے کی شرح 73.42 فی صد رہی ہے:دستوری عدالت عظمیٰ
مشرق وسطی -
"ایران، شام میں بشار الاسد کے اقتدار کا تسلسل نہیں چاہتا"
طاقت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیں گے
مشرق وسطی -
ایران نے شام میں ہر منتخب صدر کی حمایت کا اعلان کر دیا
روحانی نے پہلی بار ایران کے عمومی موقف سے ہٹ کر بات کی
بين الاقوامى