ایران میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں 30 افراد گرفتار
ایران میں پولیس نے شدت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق کے شبے میں تیس افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایرنا' کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس وزیر کے معاون علی خزاعی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ مشتبہ القاعدہ عناصر کو پچھلے مہینے مختلف کارروائیوں میں حراست میں لیا گیا۔
مشہد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر خزاعی نے بتایا کہ صوبہ خراساسان کے اسی شہر [مشہد] میں سیکیورٹی حکام اور القاعدہ عناصر کے درمیان جھڑپوں میں خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کے دونوں بازو بھی ٹوٹ گئے۔
انہوں نے کہا کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان کشمکش نائن الیون کے واقعات کے بعد سے مسلسل جاری ہے۔
خیال رہے کہ ایران میں القاعدہ عناصر کی گرفتاری کی اطلاع ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عراق میں تہران کی حامی حکومت کا القاعدہ نواز تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے القاعدہ عناصر کی گرفتاری کی خبر منظر عام پر لانے کا مقصد امریکا کو یہ پیغام دینا ہے کہ تہران بھی القاعدہ کے خلاف جنگ میں مصروف عمل ہے۔
بعض دوسرے مبصرین کا یہ خیال بھی ہے کہ سنہ 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد طالبان نے ایران کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ ایران نے القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے کئی مقربین اور اہل خانہ کے بعض افراد کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی تھی۔
ایران میں القاعدہ عناصر کی گرفتاریوں کے بارے میں یہ پہلی اطلاع نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ ایران، القاعدہ کا نام استعمال کر کے امریکا سے اپنے مفادات کے حصول کی کوشش کرتا رہا ہے اور اب بھی امریکا کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم "داعش" کی سرکوبی کے لیے تہران ٹھوس اقدامات کر رہا ہے۔
-
عراق میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں معاونت کو تیار ہیں: ایران
'تہران، بغداد کو جنگی سامان کی فراہمی کے لیے بھی تیار ہے'
مشرق وسطی -
ایران میں مقیم القاعدہ کے 02 ارکان کی گرفتاری پر 12 ملین ڈالر کا انعام
مطلوب افراد پر القاعدہ کے لیے عطیات جمع کرنے کا الزام
بين الاقوامى -
یمن میں القاعدہ کا ماہر بم ساز گرفتار
یمنی وزارت داخلہ نے ملک کے جنوبی صوبے لحج میں ایک آپریشن کے دوران القاعدہ سے ...
بين الاقوامى