ٹونی بلیئر کو شامی کیمیائی ہتھیاروں کا 'علم' تھا
"سابق برطانوی وزیر اعظم تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں"
برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں علم تھا۔ ہم نے ٹونی بلیئر کو خفیہ معلومات پر مبنی تجزیہ پیش کر دیا تھا۔
اس امر کا انکشاف برطانوی فوج کے محکمہ سراغرسانی کے سربراہ نے جان موریسن نے "آبزرور" اخبار میں شائع ہونے والے اپنے خط میں کیا ہے جو انہوں نے ٹونی بلیئر کے ایک اخباری مضمون کے جواب میں تحریر کیا ہے جس میں سابق وزیر اعظم نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے 2003ء میں امریکی قیادت میں عراق پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ انہیں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی سے متعلق اندازہ نہیں تھا۔
جان موریسن نے اپنے خط میں کہا ہے کہ "مجھے حیرت ہے کہ شاید ٹونی بلیئر نے ہماری فراہم کردہ خفیہ رپورٹس کا بغور مطالعہ نہیں کیا، یا پھر وہ جان بوجھ کر تاریخ کو اپنے حق میں ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یا پھر انہیں وزراء اعظم کی طرح کمزور یادداشت کی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔"
ٹونی بلیئر نے "عراق، شام اور مشرق وسطی" کے عنوان سے اپنے اخباری مضمون میں دو ٹوک الفاظ میں تردید کی تھی کہ انہیں بشار الاسد کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے سے متعلق قطعی علم نہیں تھا۔
انہوں نے دعوی کیا کہ مغربی حکومتوں کو 2012ء تک نہیں معلوم تھا کہ بشار الاسد کیمیائی ہتھیار بنا رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے یہ ہتھیار استعمال نہیں کئے تھے۔ اس وقت تک شامی بغاوت شروع ہوئے ایک برس مکمل ہو چکا تھا۔
-
شام کے باقی ماندہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا آغاز
شامی فوج کیمیائی ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے تعاون کررہی ہے:پینٹاگان
مشرق وسطی -
مغربی انٹیلی جنس اداروں کا مزید کیمیائی ہتھیاروں کا انکشاف
شام کیطرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دی گئیں
مشرق وسطی -
شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے یورپی مالی امداد
او پی سی ڈبلیو کو یورپی یونین سے قریباً 1کروڑ 60لاکھ ڈالرز کی رقم وصول ہوگئی
بين الاقوامى -
اسد رجیم کو برطانوی کمپنیوں نے زہریلے کیمیکلز فروخت کیے تھے: رپورٹ
برطانیہ سے شام کو کاسمیٹکس میں استعمال کے لیے سوڈیم فلورائیڈ بھیجا گیا
بين الاقوامى -
فرانس، برطانیہ نے شام میں سیرن گیس استعمال کی تصدیق کر دی
یو این کو کیمیائی ہتھیاروں کے ٹیسٹوں کے نتائج سے آگاہ کردیا گیا
مشرق وسطی -
شام سے متعلق کوئی آپشن بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے: برطانیہ
بشار الاسد جنیوا مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں: ولیم ہیگ کا بیان
بين الاقوامى