خلیج اومان میں بھارتی جہاز کو نشانہ بنانے پر بھارت کا امریکہ سے سفارتی احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارتی وزارت خارجہ نے امریکہ کے اعلیٰ سفارتکار کو طلب کر کے بھارتی ٹینکر پر کیے گئے حملے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی آئل ٹینکر پر یہ حملہ خلیج اومان میں ہوا تھا۔ امریکی سفارتکار سے بھارتی احتجاج کے واقعے کی خبر متعلقہ حکام نے خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو دی ہے۔

ان زرائع کے مطابق نئی دہلی نے خلیج اومان میں پیش آنے والے واقعے پر امریکہ کے سفارتی مشن کے نائب سربراہ جیسن میکس سے سخت احتجاج کیا ۔

بتایا گیا ہے کہ بھارتی آئل ٹینکر پر حملے کے بعد سے اب تک تین بھارتی عملے کے ارکان ابھی تک لاپتہ ہیں۔ البتہ عملے کے 21 ارکان کو بچا لیا گیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا اومان میں سفارت خانہ اومانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور بھارتی عملے کے اب تک لا پتہ ارکان کی تلاش جاری ہے۔

دریں اثنا امریکی فوج نے سوشل میڈیا 'ایکس' پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی فوج نے بھارتی جہاز کے انجن روم کو اس وقت کچھ بارود فائر کر کے ناکارہ بنایا جب اس جہاز کا عملہ امریکی فوج کی بات کو سمجھ نہ پایا اور امریکی فوج کی ہدایت پر عملے نے عمل نہ کیا۔

بتایا گیا ہے کہ بھارتی جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اومانی بندرگاہ سے یہ 20 سمندری میل شمال مشرق میں موجود تھا۔ امریکی جہاز رانی کے ادارے نے یہ بات بدھ کی صبح بتائی تھی۔ اس جہاز کو یکم جون کو اومان کی بندرگاہ کے باہر دیکھا گیا تھا۔

یاد رہے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا امریکہ نے آغاز 13 اپریل کو کیا تھا۔ تب سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سے پہلے ایران نے بھی آبنائے ہرمز سے صرف اپنی پسند کے جہازوں کو گزرنے کی محدود اجازت کا نظام شروع کر رکھا تھا۔ امریکہ نے 8 جون سے اسی علاقے میں سات جہازوں کو ناکارہ بنایا ہے جبکہ 42 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں