عراقی جنگجوؤں سے امریکا کو واضح خطرہ ہے:چَک ہیگل
داعش سے مشرق وسطیٰ میں ہمارے اتحادیوں اور یورپ کو بھی خطرات لاحق ہیں
امریکی وزیردفاع چَک ہیگل نے واضح کیا ہے کہ عراق میں سرکاری فوج کے خلاف برسرپیکار اسلامی جنگجوؤں سے مشرق وسطیٰ ،یورپ اور امریکا کو خطرہ لاحق ہے۔
چَک ہیگل نے امریکی ریاست جارجیا میں بحریہ کی سب میرین بیس کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے:''اس ملک (امریکا) کو اور کانگریس میں بھی کسی کو غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ یہ ہمارے ملک کے لیے ہی خطرہ ہے''۔وہ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں سے درپیش خطرے کا حوالے دے رہے تھے۔
انھوں نے داعش کی عسکری قوت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ بہت ہی منظم اور مضبوط فورس ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کے پاس مالی وسائل ہیں اور یہ صلاحیت بھی رکھتی ہے۔یہ مشرق وسطیٰ میں ہمارے اتحادیوں اور یورپ کے لیے خطرہ ہے''۔
چَک ہیگل نے بات کو گھما پھرا کہا کہ ''انتہا پسند گروپ شاید امریکا کے لیے کوئی واضح خطرہ نہ ہو لیکن یہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے لیے خطرہ ہے۔یہ علاقے میں ہمارے شراکت داروں کے لیے بھی خطرہ ہے اور یہ بالکل واضح ہے''۔مگر انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ داعش سے امریکا کو کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران عراق کے پانچ شمالی اور شمال مغربی صوبوں کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں خلافت کے نام سے اپنا نظام حکومت قائم کردیا ہے۔ان کے ساتھ لڑائی میں عراقی سکیورٹی فورسز کے متعدد اعلیٰ افسروں سمیت سیکڑوں اہلکار مارے جاچکے ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے عراقی فوج کی داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے میں معاونت کے لیے فوجی مشیر بھِجے تھے۔تاہم انھوں نے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ زمینی فوج عراق بھیجنے کا عندیہ دیا تھا۔
امریکی حکام اور ماہرین اب اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ داعش کے جنگجو اپنے زیر نگیں علاقے میں ایسے ٹھکانے اور تربیت گاہیں بنا سکتے ہیں جہاں وہ جہادیوں کو تربیت دیں گے اور ان کے یہ مراکز مغرب پر حملوں کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔
چَک ہیگل نے منگل کو امریکی کانگریس کے ارکان کو بند کمرے کے اجلاس میں عراق میں جاری بحران کے حوالے سے بریفنگ دی تھی اور انھیں بتایا تھا کہ امریکا عراقی عوام کی ان انتہا پسند بنیاد پرستوں کو شکست دینے کے لیے ہر ممکن مدد کررہا ہے ۔انھوں نے بتایا کہ عراقی فوج کی جنگی تیاریوں کے جائزے کے لیے بغداد جانے والے دو سو امریکی مشیر آیندہ ہفتے تک اپنا کام مکمل کرلیں گے۔
-
عراق میں نمائندہ حکومت کے قیام پر امریکا، ریاض میں اتفاق
سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ اور امریکی صدر بارک اوباما نے ایک بار پھر اس بات پر زور ...
بين الاقوامى -
عراق میں امریکا کی فوجی موجودگی میں اضافہ
بغداد کے دفاع کے لیے لڑاکا ہیلی کاپٹر اور ڈرونز عراقی فوج کی مدد کو تیار
بين الاقوامى -
ایران نے عراق میں امریکی مداخلت کی مخالفت کردی
امریکا عراق میں اپنے آلہ کاروں کو اقتدار دلانا چاہتا ہے:آیت اللہ علی خامنہ ای
بين الاقوامى -
براک اوباما عراق میں اہدافی فوجی کارروائی کے لیے تیار
امریکا نے عراق میں مزاحمت کاروں کی سرگرمیوں کی فضائی نگرانی میں اضافہ کردیا
بين الاقوامى -
عراق کی امریکا سے فضائی حملوں کی درخواست
بمباری ان دہشت گردوں پر کی جائے، جو بغداد حکومت کو چیلنج کر رہے ہیں
مشرق وسطی -
پینٹاگان:عراق میں فوجی کارروائی ؟ایران سے مشاورت مسترد
امریکا عراق میں جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں پر غور کررہا ہے: جان کیری
بين الاقوامى