.

لبنانی فوج کو سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر کی امداد

امدادی رقم دہشت گردی کے خاتمے کی کوشش میں استعمال کی جائے گی: سعد حریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور لبنانی سرحدی علاقے عرسال کی صورتحال اور داعش جیسے خطرات کے تناظر میں سعودی عرب، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے لبنانی فوج کو ایک ارب ڈالر کی امداد دے گا۔ اس امر کی تصدیق لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد الدین الحریری نے جدہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کی.

سعودی فرمانروا کے جدہ پیلس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعد الدین الحریری نے کہا کہ سعودی عرب سے ملنے والی امدادی رقم کو لبنانی فوج، داخلی سلامتی کے اداروں اور سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے صرف کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان فی الوقت مشکل صورتحال سے گذر رہا ہے۔ اس وقت شام اور لبنانی سرحدی علاقے عرسال میں پیدا ہونے والی صورتحال ایک بڑا خطرہ ہے۔ دہشت گردوں نے ہزاروں خاندانوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ ہم سب نے مل کر ان متاثرہ خاندانوں کی ڈھارس بندھانی ہے۔ اس مقصد کے لیے خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے ہم ایک ارب ڈالر کی امداد پر ان کے شکر گذار ہیں۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 'لبنان جس مرحلے سے گذر رہا ہے، اس میں یہ امداد ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔ ہم داعش، لبنان اور عرسال پر حملہ آور دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایسے موقع پر شاہ عبداللہ اور سعودی عوام کی طرف سے دی جانے والی امداد پر لبنانی ان کے تہہ دل سے شکر گذار ہیں۔'

لبنانی سرحدی علاقے عرسال میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے 'العربیہ' کے نامہ نگار نے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی اطلاع دی ہے جس کے بعد جھڑپوں کے علاقے میں گولے پھٹنے کے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ دھماکے وادی عطا کے علاقے میں ہوئے جس کے بعد مشین گن فائر کی آواز سے پورا علاقہ گونج اٹھا۔

یاد رہے لبنانی فوج اور القلمون پہاڑیوں سے آنے والے النصرہ محاذ کے مسلح جنگجووں کے درمیان 24 گھنٹے کی فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت عرسال میں جنگجووں کے پاس قید تین لبنانی سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔