لیبیا میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے

سلامتی کونسل کی فوری جنگ بندی کے حق میں قرارداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے ملک میں افراتفری اسی طرح جاری رہی تو ایک وسیع خانہ جنگی کا خطرہ ہو گا۔

لیبیا کے سفیر ابراہیم دباشی نے سلامتی کونسل کو بتایا انہوں نے پمیشہ خانہ جنگی کے امکان کو رد کیا ہے لیکن اب صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔ سفیر نے کہا '' لیبیا میں اب صورت حال بدل کر بہت پیچیدہ ہو گئی ہے۔'' ان کا کہنا تھا'' 13 جولائی سے صورت حال میں پیچیدگی کا عنصر بڑھ گیا ہے، اس لیے خطرہ ہے کہ دانشمندانہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورت حال اب مکمل خانہ جنگی کی طرف جا سکتی ہے۔''

واضح رہے عسکریت پسند 13 جولائی سے طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قبضے کے لیے کوشاں ہیں۔ سلامتی کونسل نے اس موقع پر لیبیا میں فوری جنگ بندی کے لیے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے ۔ قرارداد میں ملک میں اسلحے کی آمد کو روکنے اور ان گروپوں یا افراد پر پابندی عاید کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے جو ملک کے امن اور سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔

واضح رہے لیبیا میں ان دنوں دو الگ الگ پارلیمنٹس کام کر رہی ہیں۔ جبکہ اسلام پسندوں اور سیکولر عناصر کے درمیان خلیج وسیع ہو گئی ہے۔ اسی طرح طاقتور قبائل میں بھی تصادم ہے۔ تقسیم کا عمل پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔

لیبیا کے سفیر نے کہا ماضی میں سلامتی کے لیے خطرے والے واقعات اتنی بڑی تعداد میں پیش نہیں آ رہے تھے، اب ہر طرف سے بھاری اسلحہ استعمال ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر مارک لائل گرانٹ جو آج کل سلامتی کونسل کے صدر بھی ہیں نے کہا ہے '' سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی آئندہ چند دنوں میں اجلاس منعقد کرے گی۔ '' انہوں نے لیبیا کی صورت حال کو گھمبیر قرار دیا ہے۔

سیکرٹری جنرل بان کی مون کے لیبیا کے لیے خصوصی نمائندے طارق مطری کا اس صورت حال کے بارے میں کہنا ہے '' اقوام متحدہ کے پاس لیبیا میں مصری فضائیہ کی بمباری کی تصدیق کا کوئی موقع نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں