مرقد رسول منتقلی کی خبر بے بنیاد ہے: سعودی حکومت

قبر مبارک کی جگہ کی تبدیلی کی تجویزایک اسٹڈی رپورٹ میں دی گئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی اخبارات کی جانب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی متبادل مقام پر منتقلی سے متعلق متنازعہ خبروں کی اشاعت کے بعد معلوم ہوا ہے کہ یہ تجویز روضہ رسول صلی اللہ وسلم اور مسجد نبوی کے توسیعی پروجیکٹ کے حوالے سے تیارکردہ ایک تحقیقی رپورٹ میں دی گئی تھی، جس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی حکومت کے ایک مصدقہ ذریعے کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سعودی حکومت نے "قبر رسول" صلی اللہ علیہ وسلم کو متبادل مقام پر منتقل کرنے کا کوئی فیصلہ کیا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرغور ہے۔

قبررسول کی منتقلی کے حوالے سے میڈیا پرآنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ البتہ دو سال پیشتر جب روضہ رسول اور مسجد نبوی کی توسیع کے حوالے سے منصوبے کا آغاز ہوا تو توسیعی کمیٹی کے ماہرین نے یہ تجویز دی تھی اور ساتھ ہی علماء سے اس پر رائے بھی طلب کی تھی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ مسجد نبوی کی شمال کی سمت سے توسیع اور دوسری منزل کی تعمیر سے روضہ رسول متاثر ہوسکتا ہے۔ علماء نے قبر رسول کی منتقلی کی اجازت دی تھی مگرساتھ ہی یہ واضح کردیا تھا کہ قبر مبارک کوکھولا نہیں جائے گا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں برطانوی اخبارات 'انڈی پنڈنٹ' اور 'ڈیلی میل' نے ایک جھوٹی اور من گھڑت خبر شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی حکومت مسجد نبوی کی توسیع کے لیے قبر رسول کواپنی موجودہ جگہ سے ہٹانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں