صدر اوباما کی شاہ عبد اللہ سے ٹیلی فون پربات چیت

داعش مخالف حکمت عملی پر دونوں لیڈروں کا تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر براک اوباما نے بدھ کو عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ کے لیے اپنی حکمت عملی کے اعلان سے قبل سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

براک اوباما گرینچ معیاری وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق رات ایک بجے اپنی یہ تقریر کرنے والے ہیں جس میں وہ داعش کے خلاف اپنی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ انھوں نے اس سے پہلے شاہ عبداللہ سے اس پر تبادلہ خیال کیا ہے اور انھیں اعتماد میں لیا ہے۔

امریکی صدر نے اپنی تقریر سے قبل وائٹ ہاؤس میں اپنی جنگی کابینہ سے بھی مشاورت کی ہے۔اس اجلاس میں امریکا کے نائب صدر جو بائیڈن ،وزیردفاع چک ہیگل ،امریکا کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان شریک تھے۔

قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے عراق کا غیر علانیہ دورہ کیا ہے۔انھوں نے نئےعراقی وزیراعظم حیدر العبادی ،صدر فواد معصوم اور پارلیمان کے اسپیکر سلیم الجبوری سے الگ الگ ملاقات کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم سب کا عراق کی نئی حکومت کی حمایت میں مفاد وابستہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''داعش کے خلاف جنگ کو عراقی عوام کو ضرور جیتنا ہوگا لیکن اس کو باقی دنیا کو بھی جیتنے کی ضرورت ہے۔امریکا اور باقی دنیا کو اس جنگ میں مدد دینی چاہیے''۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر اوباما داعش سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع تر حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔تاہم انھوں نے صدر اوباما کے اس منصوبے کے خدوخال بیان نہیں کیے ہیں۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ داعش کو شکست دینے کے لیے اس منصوبے میں دنیا کے کم سے کم چالیس ممالک شامل ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں