یمن: کشیدگی میں اضافہ ،حوثیوں کی فوج سے جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے حوثی شیعہ باغیوں کی بدھ کو فوج کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے بعد شہر میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

حوثی باغیوں نے صنعا کے علاقے صبح میں گذشتہ کئی روز سے دھرنا دے رکھا ہے۔اسی علاقے میں فوج اور حوثیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔تاہم فوری طور پر اس واقعے میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

گذشتہ روز صنعا میں سکیورٹی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔تشدد کے اس واقعہ کے بعد یمنی حکومت نے صنعا پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو برطرف کردیا تھا۔

دارالحکومت کے ایک داخلی دروازے پر بھی گذشتہ روز حوثی باغیوں اور فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔باغیوں نے اسلحے سے لدی ایک گاڑی شہر میں لانے کی کوشش کی تھی۔فوجیوں نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو ان کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔

یمن کے اعلیٰ سکیورٹی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس جھڑپ میں ایک شہری ہلاک اور پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔ان میں متعدد پولیس اہلکار اور فوجی بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے باغیوں پر مشین گنوں سے فائرنگ اور راکٹ گرینیڈوں سے حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

حوثی مظاہرین نے صنعا شہر سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ پر خیمے نصب کر رکھے ہیں اوراس شاہراہ کو سیمنٹ کے بلاک لگا کر بند کردیا ہے۔انھوں نے بجلی اور ٹیلی مواصلات کی وزارتوں کی جانب جانے والے راستے کو بھی بند کررکھا ہے۔

حوثی باغی حکومت پر بدعنوانیوں کے الزامات عاید کر رہے ہیں ،اس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انھوں نے صدر عبد ربہ ہادی منصور کی جانب سے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کی پیش کش اور ایندھن پر دیے جانے والے زر تلافی کی بحالی کے فیصلے کو بھی مسترد کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں