سعودی خاتون کا دھوکے باز شوہر،پتا18 سال بعد چلا
بچوں کی رجسٹریشن دوسرے کے شناختی کارڈ پر کرانے والا شوہر اچانک غائب
قریباً بیس سال پہلے ایک خوش گفتار اور خوش شکل ٹیکسی ڈرائیور سے شادی کرنے والی سعودی خاتون کے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔ اچھی اور خوبصورت عربی بولنے والا اور خود کو سعودی شہری بتانے والا یہ شخص چالاک دھوکے باز نکلا ہے۔
دھوکے باز شوہر اپنے بچوں کی رجسٹریشن بھی کسی اور کے شناختی کراتا رہا ۔ جب اس جھوٹ کا بھانڈا پھوٹا تو حقیقت تسلیم کر کے غائب ہو گیا۔
خاتون ام مساحری بچوں کی اکیلے کفالت کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوئی تو بڑے بیٹے نے سکول چھوڑ کر مزدوری شروع کر دی ۔ لیکن دھوکے باز باپ کو پروا نہ ہوئی ۔ بلکہ اس نے مبینہ طور پر ایک اور سعودی عورت سے شادی کر لی۔
ام مساحری قریباً بیس سال پہلے ایک نوجوان لڑکی تھی اور اپنی والدہ کے ساتھ رہتی تھی ۔ ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں تھا اور والدہ کو سعودی محکمہ سماجی امور سے وظیفہ ملتا تھا جس سے گذر بسر ہو رہی تھی۔
اس دوران ایک دن ایک سعودی عدالت سے واپسی پر ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ان دونوں ماں بیٹیوں کو گھر چھوڑا ۔ یہ ڈرائیور شکل اور بول چال سے بھلا لگتا تھا۔ اس ڈرائیور نے بات چیت میں بتایا کہ وہ سعودی شہری ہے اور آج کل شادی کا سوچ رہا ہے۔
لڑکی کی بوڑھی ماں نے اسے کے ظاہری اطوار دیکھ کر اپنی بیٹی سے شادی کی دعوت دے دی۔ جسے ٹیکسی ڈرائیور نے فورا قبول کر لیا۔ اگلے ہی روز بارات آئی ۔ بارات میں بڑی عمر کے لوگ بھی شامل تھے۔
سعودی طریقے کے مطابق نکاح کا اندراج ہو گیا، تو لڑکی کی ماں نے کہا چونکہ ہمارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہے اس لیے تم ہمارے گھر میں رہو۔دلھا میاں فوراً یہ شرط مان گیا ۔ دوسال بعد ایک بیٹی پیدا ہوئی تو بطور باپ بچی کی رجسٹریشن کرانے گیا ۔ پھر تین بیٹے ہوئے تو ان کا ہسپتال کے ریکارڈ میں اندراج بھی باپ ہی نے کرا دیا۔
کچھ سال بعد اس 49 سالہ خاتون کی والدہ کا انتقال ہوگیا ۔ اچانک ایک روز دروازہ کھٹکا اور ایک صاحب نے بتایا کہ اس کے شناختی کارڈ کا غلط استعمال کرتے ہوئے آپ لوگوں نے اپنے بچوں کا اندراج کرایا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے۔
بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا تو اس نے صاف کہہ دیا'' ہاں ایسا ہی ہوا ہے، کیونکہ میں سعودی شہری نہیں تھا اور میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا۔ '' یہ کہہ کر اس نے کہا ''تمہیں پسند نہیں تو ہم الگ ہو جاتے ہیں۔''
وہ دھوکا باز شوہر اس کے بعد سے آج تک غائب ہے۔ بچوں کی پرورش اکیلی خاتون کر رہی ہے۔ تنگ دستی حد سے بڑھی تو 17 سالہ بڑے بیٹے کی تعلیم چھڑوانا پڑی اور وہ آج کل مزدوری کرتا ہے، تاکہ ماں کا سہارا بن سکے۔
بچوں کے باپ کے بارے میں متاثرہ سعودی خاتون کا کہنا ہے کہ اس فریبی نے کسی اور خاتون سے اسی طرح دھوکے سے شادی کر لی ہے۔
خاتون کے وکیل بایان زہران کا کہنا ہے کہ خاتون کو حکومت کی طرف سے مدد ملنی چاہیے کیونکہ وہ بے گناہ ہے اور اس کا نکاح قانونی طریقے سے درج ہوا تھا۔
ام مساحری نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے اس کی قانونی امداد بھی کی جائے کیونکہ اسکول والے بچوں کے باپ کا پوچھتے ہیں ۔ لیکن باپ مفرور ہے۔