.

ایران : میزائل سے لیس نئے ڈرون کی نمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے میزائل سے لیس اپنا تیارشدہ ایک نیا بغیر پائیلٹ طیارہ (ڈرون) متعارف کرایا ہے۔

ایران کی فارس خبررساں ایججنسی کی اطلاع کے مطابق نائب وزیردفاع جنرل امیر حاتمی کا کہنا ہے کہ ''ایرانی انجنیئروں نے مسلح افواج کے لیے یہ ڈرون تیار کیا ہے۔یہ میزائل لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہے،اس کی تحقیق ،تجربے اور آزمائش کے مراحل مکمل ہوچکے ہیں''۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''یہ نئے ڈرونز جنگی جیٹ ،ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں سمیت مختلف اقسام کے طیاروں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں''۔تاہم انھوں نے اس نئے ڈرون کی مزید فنی خصوصیات نہیں بتائی ہیں۔سرکاری ٹیلی ویژن نے کسی نامعلوم مقام پر منگل کو منعقدہ تقریب میں اس نئے ڈرون کو متعارف کرانے کی فوٹیج نشر کی ہے۔

ایران بیلسٹک ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام پر بھی عمل پیرا ہے اور وہ سنہ 2010ء سے ایسے ڈرونز تیار کررہا ہے جو ایرانی وزارت دفاع کے مطابق ایک ہزار کلومیٹر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران نے 1992ء میں اپنی دفاعی صنعت کو فروغ دیا تھا۔وہ اب خود ہلکے اور بھاری ہتھیار تیار کررہا ہے۔ان میں مارٹر گولوں سے لے کر ٹینک اور سب میرینز تک تیار کی جارہی ہیں۔اس نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تیار کررکھے ہیں۔یہ دو ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں اور اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

امریکا ایران کے ہتھیاروں کی تیاری کے اس پروگرام پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہتا ہے۔تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کا یہ پروگرام اپنے دفاع کے لیے ہے۔ ایران وقفے وقفے سے اپنی عسکری کامیابیوں کے اعلانات کرتا رہتا ہے لیکن ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔