اماراتی طالبات پر ہتھوڑے سےحملہ آور جنونی برطانوی کی تصاویر جاری
برطانیہ کی ایک عدالت کی جانب سے ہتھوڑے سے تین اماراتی لڑکیوں پر حملہ کرنے والے ایک برطانوی ملزم کی تصاویرجاری کی ہیں۔ "ساؤتھ ورک" عدالت کی جانب سے ملزم فیلپ سپنس کی چار تصاویر اور اس ہتھوڑی کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے جس کی مدد سے اس نے چھ ماہ قبل تین سگی بہنوں پر وسطی لندن کے ایک ہوٹل میں ان کے قیام کے دوران حملہ کیا تھا۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر اس کے خلاف مقدمہ شروع کیا ہے۔ عدالت میں ملزم کے خلاف قائم مقدمہ کو "ہتھوڑا کیس" ہی کا نام دیا گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 32 سالہ فیلپ سپنس کوئی چھ ماہ قبل لندن کے مشہور زمانہ 'ہائیڈ پارک' کے سامنے آکسفورڈ اسٹریٹ پر واقع "کمبرلینڈ" ہوٹل کے ایک کمرے میںگھسا۔ کمرے میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی تین سگی بہنیں رہائش پذیر تھیں۔ ملزم نے تینوں کو ہتھوڑی سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کا شکار ایک لڑکی نے برطانوی عدالت کو اپنا بیان قلم بند کراتے ہوئے بتایا کہ ملزم پرجنون کی کیفیت طاری تھی اور وہ مسلسل ان پر ہتھوڑی سے حملے کیےجا رہا تھا۔
منظرعام پر آنے والی تصاویر میں ایک میں ملزم کی ہتھوڑی بھی شامل ہے جس کی مدد سے لڑکیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کےعلاہ ملزم کو ہاتھ میں چمڑے کا ایک بیگ اٹھائے ایک بس میں سیٹ پر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ یہ ہتھوڑی اس نے اسی بیگ میں چھپا رکھی تھی۔
تشدد کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی نے بتایا کہ ملزم نے ان پرحملہ مقامی وقت کے مطابق اتوار کو صبح چھ بج کر13 منٹ پرکیا۔ حملے کے وقت وہ ہزیان کی حالت میں چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ "پیسے کہاں پیسے کہاں ہیں؟" ایک تصویر گرفتاری کے بعد عدالت میں پیشی کے دوران کی جاری کی گئی ہے جس میں اس نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ لڑکیوں کو قتل کے ارادے سےان کے کمرے میں داخل ہوا تھا۔
-
برطانیہ سیاحت کے لیے غیر محفوظ: 52 فی صد اماراتیوں کی رائے
تجزیہ کاروں کا سیاحوں کو لندن کے بجائے خلیجی شہروں کا رُخ کرنے کا مشورہ
ایڈیٹر کی پسند -
لندن: تین ہفتوں میں ایک اور اماراتی خاندان پر حملہ
برطانیہ عرب باشندوں کے لیے خطرناک ملک بنتا جا رہا ہے
مشرق وسطی -
لندن: تین اماراتی خواتین پرلگژری ہوٹل میں ہتھوڑے سے حملہ
لندن کے ایک لگژری ہوٹل میں ایک شخص نے متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی تین ...
بين الاقوامى