ترکی: پولیس پر حملہ، مقامی سربراہ زخمی دو افسر ہلاک
پولیس افسروں پر حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی
ترکی کے مشرقی صوبے بنگول میں ایک حملے کے دوران پولیس سربراہ زخمی اور دو پولیس افسر ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک پولیس افسر اس حملے کے دوران موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا زخمی افسر ہسپتال پہنچنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہو گیا۔
ان تینوں پولیس افسروں پر حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب وہ حالیہ مظاہروں کے دوران دکانوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے تھے۔
واضح رہے کرد مظاہرین نے ان دنوں ترکی کے مختلف شہروں میں احتجاج شروع کر رکھا ہے، ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ترک حکومت شامی سرحدی قصبے کوبانی میں داعش کی مزاحمت کرنے والے کردوں کو اسلحہ فرہم کرے۔
پولیس چیف سمیت پولیس افسروں پر اس خوفناک حملے کی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران ہزاروں کرد ترکی سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں۔ اس دواران دو درجن سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
ترکی کے اس مشرقی صوبے میں امظاہروں پر قابو پانے کے لیے کرفیو بھی لگایا جا چکا ہے۔ دوسری جانب سرحدی شامی قصبے پر واقع قصبے کوبانی کے ایک تہائی حصے پر داعش کا کنٹرول ہو چکا۔
ترکی کا موقف ہے کہ وہ تنہا شام میں زمینی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ ترکی عالمی اتحاد کی فضائی کارروائیوں کو داعش کے خلاف کافی نہیں سمجھتا ہے۔
-
ترکی پر حملے کی صورت، نیٹو کا دفاعی منصوبہ تیار
نیٹو دفاعی منصوبہ ترکی کے مطالبہ پر بنا ہے، ترک وزیر دفاع
بين الاقوامى -
شام کا ترکی کو داعش مخالف دراندازی پر انتباہ
شام نے ترکی کو داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی حدود میں دراندازی پر ...
مشرق وسطی -
ترکی داعش مخالف جنگ سے باہر نہیں رہ سکتا:ایردوآن
ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شام اورعراق میں دولت اسلامی (داعش) ...
بين الاقوامى