.

لیبیا: عدالتِ عظمیٰ نے پارلیمان تحلیل کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی عدالتِ عظمیٰ نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور مغرب کی حمایت یافتہ پارلیمان کو تحلیل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر نہیں کی جاسکتی اور اس کا اعلان ہوتے ہی دارالحکومت طرابلس میں مسلح افراد نے خوشی سے ہوائی فائرنگ شروع کردی۔اس فیصلے کے بعد وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت پر بھی دباؤ بڑے گا۔ان کی حکومت مصر کی سرحد کے نزدیک واقع مشرقی شہر طبرق میں کام کررہی ہے اور اس کا ملک کے تین بڑے شہروں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

لیبیا کی عدالت عظمیٰ سے ایک اسلام پسند رکن عبدالرؤف المینائی نے پارلیمان کی آئینی حیثیت سے متعلق حکم صادر کرنے کے لیے رجوع کیا تھا۔ایوان نمائندگان کا جون میں انتخاب عمل میں لایا گیا تھا اور اس نے ہی عبداللہ الثنی کی حکومت کی منظوری دی تھی۔

عبدالرؤف المینائی نے دوسرے اسلام پسند ارکان کے ساتھ طبرق میں پارلیمان کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کردیا تھا اور انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ اسمبلی دستور کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے کیونکہ اس کے طرابلس یا بن غازی میں اجلاس منعقد نہیں ہورہے ہیں۔

لیبیا کی اس منتخب پارلیمان (ایوان نمائندگان) طرابلس مِیں مغربی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے قبضے کے بعد سے مشرقی شہر طبرق ہی میں اپنے اجلاس منعقد کررہی تھی۔

درخواست گزاروں نے عدالتِ عظمیٰ کے روبرو یہ موقف بھی اختیار کیا تھا کہ پارلیمان نے غیر ملکی فوج کو مداخلت کی دعوت دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔اس پارلیمان نے امریکا اور مغربی ممالک سے اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں مدد کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ طرابلس کے علاوہ دوسرے بڑے شہر بن غازی میں بھی اسلامی جنگجوؤں نے اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے۔ان میں انصارالشریعہ بھی شامل ہے۔اس جنگجو گروپ کو بن غازی ہی میں 2012ء میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے الزام میں واشنگٹن نے بلیک لسٹ قرار دے دیا تھا۔

بن غازی میں گذشتہ ایک ہفتے سے اسلامی جنگجوؤں اور جنرل خلیفہ حفتر کے وفاداروں جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔لیبیا کی سرکاری فوج بھی مسلح جنگجو گروپوں کے خلاف اس کارروائی میں شریک ہے۔