.

'ملکی استحکام یا شکست مان لینا، دو ہی آپشن بچے ہیں'

حکومتی رِٹ بحال کرنے میں تمام سیاسی قوتیں تعاون کریں: یمنی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی نے ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور فوج وریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں سے نو منتخب وزیر اعظم انجینئر خالد بحاح کی سربراہی میں قائم حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن ایک فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ اس وقت ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم دہشت گردوں کو شکست دے کر ملک میں فوج اور حکومت کی رٹ بحال کرنا چاہتے ہیں یا ان کے سامنے گھٹنے ٹیک رہے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق صدر عبد ربہ نے ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹ، کابینہ اور مجلس شوریٰ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کیا۔ انہوں ‌نے کہا کہ ملک بدترین سیکیورٹی، اقتصادی اور سیاسی بحرانوں سے گذر رہا ہے۔ ہم نے قومی شراکت کے معاہدے کے تحت تمام سیاسی قوتوں کو حکومت میں ان کی حیثیت اور مرتبے کے مطابق جگہ دی ہے۔

"ہمارے پاس ملکی استحکام یا دہشت گردوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے صرف دو راستے ہیں، کوئی تیسرا راستہ نہیں بچا ہے۔ اگر ہم پہلا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ہمیں لامحالہ نئی حکومت کو مضبوط کرنا ہو گا تاکہ وہ ملک میں اپنی رٹ قائم کر سکے۔ اگر خدا نخواستہ ہم اس میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں تو ریاست کے تمام ادارے اور قومی مفادات بد نظمی اور تشدد پسندوں کے ہاتھ میں چلے جائیں گے۔"

صدر ھادی کا کہنا تھا کہ ہم نے طویل بحث اور غور و خوض کے بعد قومی شراکت کے معاہدے کے تحت مکمل شفاف طریقے سے نئی کابینہ تشکیل دی ہے اور اس میں مکمل میرٹ کا خیال رکھا گیا ہے۔ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل یہ نئی حکومت انتظامیہ کی رگوں میں نیا خون پیدا کرے گی اور سیکیورٹی ادارے، انتظامیہ مل کر ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ملک کے تمام سیاسی دھڑوں، پارلیمنٹ، مجلس شوریٰ، قبائلی عمائدین اور کسی نہ کسی شکل میں ملک کی نمائندگی کرنے والی قوتوں سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ خدارا ملک کو افراتفری سے بچانے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ ریاستی رٹ اور اداروں پر حکومتی گرفت ہم سب کے مفاد میں ہے۔ ہمیں ایک طرف بھوک اور غربت کے چیلنج سے نمٹنا ہے اور دوسری طرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دینا ہے۔ اگر ہم دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکتے تو ہم اقتصادی ترقی بھی نہیں کر سکیں گے۔

صدر ھادی نے حکومت میں شامل جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسری کی کمزوریاں تلاش کر کے تنقید اور کے راستے تلاش کرنے کے بجائے دوسرے کی کمزوریوں پر صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔ ہمیں سیاسی استحکام کے بعد دستور پر ریفرنڈم اور نئے سرے سے پارلیمانی صدارتی انتخابات کی بھی تیاری کرنا ہے۔