.

صدراوباما کی وزیردفاع کے لیے آشٹن کارٹر پر نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی حزب اختلاف ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر جم انحوف نے اطلاع دی ہے کہ صدر براک اوباما نے سابق نائب وزیردفاع آشٹن کارٹر کو وزیردفاع نامزد کرنے کے لیے منتخب کر لیا ہے۔

سینیٹر جم انحوف سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن ہیں۔انھوں نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ انھیں آج صبح ہی آشٹن کارٹر کو وزیردفاع مقرر کرنے سے متعلق فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے اور وہ پینٹاگان کی سربراہی کے لیے آشٹن کارٹر کی بھرپور حمایت کریں گے۔تاہم وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

قبل ازیں امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی اطلاع دی ہے کہ صدر اوباما مسٹر آشٹن کو وزیردفاع مقرر کرنے والے ہیں۔پینٹاگان کے بعض سینیر عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ آشٹن کارٹر کا نام سیکریٹری دفاع کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں میں شامل ہے لیکن انھوں نے ان کی نامزدگی کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔

امریکی وزیردفاع چَک ہیگل نے گذشتہ ہفتے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ان کے صدر اوباما کے ساتھ عراق اور شام میں داعش مخالف مہم اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء پر اختلافات پائے جاتے تھے۔بعض امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کا اعتماد کھو بیٹھے تھے جس کے بعد صدر اوباما نے ان سے استعفیٰ لے لیا ہے۔

ساٹھ سالہ کارٹر اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حامل ہتھیاروں اور فوجی بجٹ سازی میں ماہر ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔وہ پینٹاگان میں اصلاح پسند کے طور پر مشہور تھے اور انھوں نے اس کی افسرشاہی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی تھیں۔وہ ہتھیاروں کے پروگراموں اور ٹیکنالوجی کے جدید رجحانات میں تو ماہر ہیں لیکن انھیں جنگی حکمت عملی کا تجربہ نہیں ہے اور نہ وہ اپنے پیش رو وزیردفاع کی طرح کبھی باوردی فوجی رہے ہیں۔

انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تھیورٹیکل فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔وہ سابق صدر بل کلنٹن کے دورحکومت میں پینٹاگان میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور وہ جوہری ہتھیاروں کی پالیسی کے ذمے دار تھے۔انھوں نے یوکرین اور سابق سوویت یونین کی دوسری ریاستوں کے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے میں مدد دی تھی۔

ڈاکٹر آشٹن ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ میں پروفیسر رہ چکے ہیں۔وہ صدر اوباما کے پہلے دور حکومت میں 2009ء سے 2011ء تک پینٹاگان کے اسلحے کی خریداری کے ذمے دار تھے اور پھر 2013ء تک نائب وزیردفاع رہے تھے۔