"اتفاق رائے کے بغیر تیل کی پیداوار میں کمی نہیں ہو گی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’’اوپیک‘‘ اور روس سمیت تیل پیدا کرنے والے دیگر تمام ممالک اور اداروں سے اتفاق رائے کے بعد ہی اپنے تیل کی پیدوار میں کمی پر غور کرے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے دورہ برطانیہ کے دوران لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب نے پہلے ہی تیل کی پیدوار کم کر رکھی ہے۔ اس میں مزید کمی اس وقت کی جائے گی جب تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک بھی اس پر عملاً متفق ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالمی منڈی میں تیل کے اپنے حصے سے دستبردار نہیں ہو گا۔ ریاض کی جانب سے پہلے تیل کی پیدوار میں کمی کر کے روس، نائیجیریا، ایران اور دنیا کے دوسرے ممالک کے گاہکوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔

شہزادہ الفیصل کا کہنا تھا کہ اگر تیل کی پیداوار میں کمی کی کوئی معقول تجویز پیش کی گئی اور دیگر پیدواری ممالک بھی اس پر متفق ہوئے تو ہم بھی غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی دوسروں کے کہنے پر تیل کی پیدوار کم کی لیکن تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اس سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں