.

"نیٹو کے اںخلاء پر کابل کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے"

لندن میں افغانستان کے موضوع پر عالمی کانفرنس کے شرکا کا عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں افغانستان کے موضوع پر منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں عالمی رہنماؤں نے اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ نیٹو فوجی مشن کے بعد بھی وہ افغان حکومت اور عوام کے ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔

لندن میں منعقدہ کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے اپنی حکومت کی پالیسیاں بیان کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مشکل وقت میں اس شورش زدہ ملک کو تنہا مت چھوڑیں۔ انہوں نے البتہ کہا کہ ان کے ملک کو مستقبل میں غیر ملکی فوج کی ضرورت نہیں ہو گی لیکن جنگ سے تباہ حال افغانستان کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے کے لیے مالی امدادی ضروری ہے۔ افغان صدر نے یہ بھی کہا کہ نیٹو فوجی مشن کے خاتمے کے بعد فوری طور پر مالی امداد میں کمی نہیں کی جانا چاہیے۔

اس دوران اشرف غنی نے اپنی حکومت کی طرف سے متعارف کرائے جانے والی اصلاحات کا خلاصہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کے اچھے مواقع پیدا کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ اس دوران افغان صدر نے طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل اور ان کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوششوں کا تذکرہ بھی کیا۔ غنی نے کہا کہ افغانستان نے اپنے ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے اور تاریخ نہیں دہرائی جائے گی۔

اس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ پچاس ممالک کے اعلیٰ سفارتکار بھی شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اشرف غنی کو یقین دلایا کہ امریکا اور عالمی رہنما افغانستان میں پائیدار امن اور ترقی کی کوششوں کے لیے اپنے وعدوں کو ضرور وفا کریں گے۔

جان کیری نے اشرف غنی کی حکومت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب سے وہاں متحدہ حکومت سازی عمل میں آئی ہے، تب سے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ کیری کے بقول، ’’ہم پراعتماد ہیں کہ صدر غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی طرف سے اختیار کی گئی پالیسیوں کے نتیجے میں ایک مضبوط اور ترقی کرتا ہوا افغانستان ممکن ہے۔‘‘

مسٹر کیری نے کہا کہ واشنگٹن حکومت افغانستان کو علاقائی سطح پر ایک اہم طاقت کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے امریکی حکومت افغانستان کی ترقی کے لیے کوششیں کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چار سال کے دوران واشنگٹن نے افغانستان کی ترقی کے لیے آٹھ بلین ڈالر کی امداد دی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ افغان قومی بجٹ کا نوے فیصد حصہ غیر ملکی امداد پر چلتا ہے۔

اس ایک روزہ کانفرنس کے دوران برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغان عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ لندن حکومت ہر قدم پر ان کے ساتھ ہے۔ اس موقع پر پاکستانی حکومت نے بھی ہمسایہ ملک افغانستان میں قیام امن اور ترقی کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔