.

سی آئی اے نے سفاکانہ تفتیشی حربے آزمائے: رپورٹ

امریکی ادارے کے زیرحراست افراد سے راز اگلوانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ کی سراغرسانی سے متعلق سلیکٹ کمیٹی نے ملک کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے تفتیشی حربوں سے متعلق آج منگل کو ایک دھماکا خیز رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے بار بار اپنے تفتیشی حربوں کے حوالے سے امریکیوں کو گم راہ کیا تھا اور نائن الیون کے حملوں کے بعد خفیہ طور پر چلائے جانے والے تفتیشی پروگرام کا بھی غلط انداز میں استعمال کیا تھا۔

امریکی سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی پانچ سال تک سی آئی اے کے مشتبہ دہشت گردوں سے تفتیش کے حربوں اور تیکنیکوں کی تحقیقات کی ہے اور اس کے داخلی ریکارڈ کے ساٹھ لاکھ سے زیادہ صفحات کا جائزہ لینے کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔اس رپورٹ میں کمیٹی نے کہا ہے کہ ایک سو سے زیادہ قیدیوں پر آزمائے گئے تفتیش کے حربے مؤثر نہیں تھے اور اس پروگرام کا انتظام بھی نامناسب انداز میں کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کا تفتیشی پروگرام اس سے کہیں سفاکانہ تھا جتنا کہ یہ ارکان کانگریس اور عوام کو بتایا گیا تھا۔سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی خاتون چئیرپرسن سینیٹر ڈیان فین اسٹین نے ایوان کے روبرو رپورٹ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی آئی اے کے ایک عشرہ قبل اقدامات ہماری اقدار اور ہماری تاریخ پر ایک دھبّہ ہیں۔پانچ سو صفحات کو محیط رپورٹ کا خلاصہ اس دھبے کو مٹا نہیں سکتا ہے لیکن اس سے ہم اپنے عوام اور دنیا کو یہ بتاسکتے ہیں کہ امریکا اگر غلطی پر ہو تو وہ اس کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتا بلکہ بڑے پن کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے لیے پُراعتماد ہے''۔

رپورٹ میں بیس خاص کیسوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ان کے حوالےسے سی آئی اے نے معلومات کے حصول میں کامیابی کا دعویٰ کیا تھا مگر اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام مثالیں ہی غلط ثابت ہوئی تھیں۔

زیر حراست افراد سے سلوک

رپورٹ کے مطابق اس تفتیشی پروگرام میں سقم پائے جاتے تھے۔اس ضمن میں نومبر 2002ء میں ایک قیدی کی مثال پیش کی گئی ہے۔سی آئی اے کے اہلکاروں نے اس قیدی کو جزوی طور پر عریاں کردیا تھا اور اس کو کنکریٹ کے فرش اور دیوار کے ساتھ زنجیر سے باندھ دیا تھا۔وہ بعد میں دم توڑ گیا تھا۔

جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا،اس حراستی مرکز کی جعلی نام کوبالٹ کے نام سے شناخت کی گئی ہے اور سی آئی کا ایک جونئیر افسر اس کا انچارج تھا۔رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کی اعلیٰ قیادت کوبالٹ میں ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں آگاہ نہیں تھی۔ سی آئی اے کے اہلکاروں نے زیر حراست افراد کو جنسی طور پر بھی ہراساں کیا تھا اور ان سے ناروا سلوک کی دھمکی دی تھی۔

سینیٹ کمیٹی کی رپورٹ میں سی آئی اے کے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد پر آزمائے گئے سفاکانہ تفتیشی ہتھکنڈوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور یہ ہتھکنڈے اس سے کہیں زیادہ سفاکانہ معلوم دیے ہیں جتنا کہ یہ پہلے بیان کیے گئے ہیں۔اس ضمن میں رپورٹ میں سی آئی اے کے پہلے زیر حراست شخص ابو زبیدہ کی مثال دی گئی ہے۔وہ سی آئی اے اہلکاروں کے تفتیشی حربے کی وجہ سے مکمل طور پر بے حس وحرکت ہوگیا تھا۔

سینیٹ کمیٹی میں شامل ری پبلکن ارکان نے اس رپورٹ کے اجراء کی مخالفت کی ہے جبکہ صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں تفتیشی تیکنیکوں کی تفصیل منظرعام پر آنے کے بعد دنیا میں امریکا کے تشخص کو نمایاں نقصان پہنچے گا۔ان کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد پر آزمائے گئے حربے ہماری اقدار سے کوئی لگا نہیں کھاتے ہیں اور ان سے ہمارے قومی سلامتی کے مفادات کی بھِی کوئی خدمت نہیں ہوئی ہے۔