یمنی القاعدہ نے سرقلم کرنے اور فلمانے کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن میں القاعدہ کی شاخ کے ایک سینیر کمانڈر نے داعش کی جانب سے اپنے مخالفین یا یرغمالیوں کے وحشیانہ انداز میں سرقلم کرنے کی مذمت کی ہے اور اس فعل کو پروپیگنڈا مقاصد کے لیے فلمانے کو ''بربریت''قرار دیا ہے۔

''جزیرہ نما عرب میں القاعدہ'' کے سینیر کمانڈر نصر بن علی العنسی نے ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں اپنی معاصر تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے بہیمانہ مظالم کے ردعمل میں ایک ویڈیو جاری کی ہے۔رپورٹر نے ان سے سوال کیا تھا کہ کیا یمنی القاعدہ داعش کے حربوں کی نقل کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

علی العنسی نے ٹویٹر پر سوموار کو جاری کردہ اس ویڈیو میں کہا ہے کہ ''قیدیوں اور مخالفین کے سرقلم کرنے کی فلم بنانا اور اس کی لوگوں کے درمیان اسلام اور جہاد کے نام پر تشہیر کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہے اور اس کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا ہے،خواہ اس کا کوئی بھی جواز پیش کیا جائے''۔انھوں نے کہا کہ ''یہ بہت ہی زیادہ بربریت ہے''۔

علی العنسی کے انٹرویو کی اس سے پہلے ایک اور ویڈیو جاری کی گئی تھی اور وہ بظاہر یمن میں ایک امریکی اور ایک جنوبی افریقی یرغمالی کی بازیابی کے لیے امریکا کی کارروائی سے قبل ریکارڈ کی گئی تھی۔یہ دونوں یرغمالی امریکی خصوصی دستے کی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔

درایں اثناء جنوبی افریقہ میں متعین امریکی سفیر پیٹرک گیسپارڈ نے کہا ہے کہ واشنگٹن جنوبی افریقی استاد پائیرے کورکئی کی رہائی کے لیے القاعدہ سے بات چیت سے پیشگی آگاہ نہیں تھا۔وہ بھی امریکی کمانڈوز کی یمن میں القاعدہ کے ہاتھوں یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔

56 سالہ پائیر کورکئی اور 33 سالہ امریکی صحافی لوک سومرس ہفتے کی رات امریکی خصوصی دستے کی کارروائی کے دوران زخمی ہوگئے تھے اور بعد میں وہ دم توڑ گئے تھے۔امریکا کا کہنا ہے کہ انھیں یرغمال بنانے والے گروپ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے ہلاک کیا ہے۔

امریکی خصوصے دستے نے یمن کے جنوبی صوبے شیبوۃ کے علاقے دفعار میں یہ کارروائی کی تھی اور اس دوران ایک خاتون اور دس سالہ بچے سمیت گیارہ اور افراد بھی مارے گئے تھے۔شیبوۃ یمنی القاعدہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

درایں اثناء صوبہ شیبوۃ کے ایک بااثر قبیلے العولقی کے سربراہ طارق فرید الدغاری نے یمنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہفتے کی رات چھاپہ مار کارروائی میں ہونے والے جانی نقصان کے ازالے کے لیے معاوضہ ادا کرے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس کارروائی میں سات عام شہری مارے گئے تھے۔انھوں نے یمنی حکومت سے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان کے بہ قول ان کے دور دراز گاؤں میں رات کے وقت کیے گئے اس آپریشن میں یمنی فوجی بھی شریک تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں