.

ایران میں امریکی سفارت خانہ کھول سکتے ہیں:اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا ہے کہ امریکا ایک دن ایران میں دوبارہ اپنا سفارت خانہ کھول سکتا ہے۔

صدر اوباما نے سوموار کو این پی آر انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں یہ بات کہی ہے۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ اپنی صدارت کی باقی دو سالہ مدت کے دوران ایران میں امریکی سفارت خانے کو دوبارہ کھول سکتے ہیں؟اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ''میں نے کبھی ایسا نہیں کہا لیکن تعلقات کو مرحلہ وار بحال ہونا چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ایران کیوبا سے ایک مختلف ملک ہے۔کیوبا ایک چھوٹا ملک ہے اور اس سے امریکا کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے جبکہ ایران ایک بڑا ملک ہے۔اس نے دہشت گردی کو اسپانسر کیا ہے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے''۔واضح رہے کہ امریکا نے حال ہی میں کیوبا کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بحال کرنے اور ہوانا میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

صدر اوباما نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ طے پاسکتا ہے۔اس سے ایران دوبارہ عالمی برادری کا حصہ بن سکے گا۔انھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس معاہدے سے ایران کے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔

امریکا کے ایران کے ساتھ 1979ء سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔اس کے بعد ایران کے جوہری تنازعے پر دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ ہوا تھا۔اب ایران امریکا سمیت چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری تنازعے کو طے کرنے کے لیے بات چیت کررہا ہے لیکن ابھی تک ان کے درمیان حتمی جوہری معاہدہ طے نہیں پاسکا ہے۔