.

ابو حمزہ المصری کو امریکی عدالت سے عمر قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیویارک میں قائم امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے مصری نژاد برطانوی عالم دین ابو حمزہ المصری کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ گذشتہ روز ہونے والی پیشی میں امریکی جج نے مصطفیٰ کامل مصطفیٰ المعروف ابو حمزہ کو سزا سنائی۔

ابو حمزہ، جو ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہیں، جب کہ اُن کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہیں، سزا سنائے جانے کے وقت عدالت میں موجود تھے۔ اُن کے وکلا نے جج پر زور دیا تھا کہ سزا سناتے ہوئے، وہ اُن کی جسمانی کمی کو مدِ نظر رکھیں۔

گذشتہ مئی میں، دہشت گردوں کو مادی حمایت فراہم کرنے پر، حمزہ کو سارے 11 کے 11 الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

اِن الزامات میں، جہادی تربیتی کیمپ قائم کرنے کے لیے اپنے پیروکاروں کو امریکا بھیجنا، افغانستان میں القاعدہ کی مدد کے لیے افراد روانہ کرنا اور یمن کے شدت پسندوں کو ایک سیٹلائٹ فون فراہم کرنا شامل تھا، جنھوں نے سنہ 1998میں مغربی سیاحوں کو اغوا کیا تھا۔ ریسکیو مشن کے دوران، اِن میں سے چار یرغمالی ہلاک ہو گئے تھے۔

معاون اٹارنی جنرل، جان کارلن نے ایک بیان میں ابو حمزہ کو ایک ایسا شخص قرار دیا ہے جو ’بغیر نادم ہوئے، ہر طرح کی دہشت گردی کے لیے تیار‘ رہتا ہو۔

سنہ 2012 میں امریکا کی حوالگی سے قبل، حمزہ برطانیہ میں مقیم تھا، جہاں وہ لندن میں فِنسبری پارک مسجد میں شعلہ بیان خطبات کے ذریعے مغرب مخالف جذبات کو ہوا دیتے تھے۔

ملک بدری سے قبل، ابو حمزہ برطانیہ میں سات برس کی قید کاٹ چکا ہے۔ اُن کے خلاف نفرت پھیلانے اور نوجوانوں کو کافروں کے خلاف اسلحہ اٹھانے پر اکسانے کے الزام ثابت ہوئے تھے۔