.

بیلجیم: شام سے واپس آنیوالے عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن میں دو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیم کی پولیس نے شام کے محاذ جنگ سے واپس آنے والے عسکریت پسندوں کے ایک گروپ کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں کم سے کم دوشدت پسند ہلاک ہو گئے تہیں۔

بیلجیم حکام کے مطابق عسکریت پسند ملک میں دہشت گردی کی ایک بڑی سازش تیار کر رہے تھے تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرکے اسے ناکام بنا دیا ہے۔

شام سے واپس آنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات پر مبنی ایک ویڈیو فوٹیج ’’یوٹیوب‘‘ پربھی پوسٹ کی گئی ہے جس میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

بیلجیم کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اریک فان ڈیرسیپٹ نے بتایا کہ شام سے واپس آنے والے شدت پسندوں کا ایک گروپ ملک میں دہشت گردی کی ایک بڑی سازش کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تاہم پولیس نے کارروائی کر کے دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی واپسی کی اطلاعات کے بعد اہم شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے تاکہ دہشت گردی کی کسی بھی سازش کو بروقت ناکام بنایا جاسکے۔

مسٹرڈیر سیپٹ کا کہنا تھا کہ پولیس نے عسکریت پسندوں کے دس مکانات پر چھارے مارے ہیں تاہم کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ پولیس آج بھی مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

درایں اثناء بیلجیم کے ذرائع ابلاغ نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ پولیس نے اسلحے کے ایک مشبہ تاجر کو حراست میں لیا ہے جس سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیااس مشکوک شخص کے فرانس میں گذشتہ ہفتے ہونے والی دہشت گردی سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے جنوبی شہر چارلروا میں ایک شخص نے رضاکارانہ طور پر خود کو پولیس کے حوالے کیا ہے جس کے فرانس میں یہودی شہری کے ملکیتی سپر اسٹور پر حملے میں ملوث بامیدی کولیبالی کے ساتھ روابط کا پتا چلا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے پیرس میں ایک سینیگالی عسکریت پسند نے یہودی کے ملکیتی سپر اسٹورمیں گھس کر چار یہودیوں کو ہلاک اور سترہ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بعد ازاں پولیس کی کارروائی سے کولیبالی بھی مارا گیا تھا۔ بیلجیم کی پولیس کولیبالی کے مبینہ رابطہ کار سے تفتیش کررہی ہے۔