.

مسلمانوں کی ملک بدری کی بات نہ کی جائے: جرمن چانسلر

مسلمان علماء کو جرمن عوام کی تشویش کا ازالہ کرنا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل نے مصم انداز میں کہا ہے کہ مسلماںوں کے لیے ملک بدری اہم نہیں ہے ، میں سابق جرمن صدر سے اتفاق کرتی ہوں کہ اب اسلام جرمنی سے تعلق رکھتا ہے۔''

تاہم جرمن چانسلر نے کہا یہ وقت ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی رہنما اسلام اور دہشت گردی کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچیں۔ انجیلا میرکل نے ان خیالات کا اظہار جرمن پارلیمنٹ کی طرف سے فرانس کے پر تشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے سترہ افراد کو خراج تحسین پیش کرنے کے موقع پر کیا۔

جرمن پارلیمنٹ کے ارکان اس سلسلے میں ایک منت کے لیے احتراماً خاموش کھڑے ہوئے اور مرنے والوں کے خراج تحسین پیش کیا۔

فرانس میں پیش آنے والے تین روزہ پر تشدد واقعات کے بعد جرمنی اس چیلنج کا سامنا کر رہا ہے کہ مشرقی شہر میں مسلمانوں کے خلاف منعقد کی جانے والی ریلیوں سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے۔

جرمن پارلیمنٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چانسلر انجیلا میرکل نے کہا ہم ملک کے عوام کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کی ملک بدری کی بات نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی شکوک پیدا کیے جانے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا وہ مسلمانوں کی حفاظت کے لیے موجود ہوں گی۔

بے چینی

تاہم چانسلر نے یہ تسلیم کیا کہ وہ بھی سمجھتی ہیں کہ اسلام کے حوالے سے کچھ باتیں انہیں بھی بے چین کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا جرمنی کی اکثریت اسلام دشمن نہیں ہے، البتہ وہ اسلام کے بارے میں کچھ چیزوں کی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے تشویش ضرور محسوس کرتی ہے۔

انجیلا میرکل نے کہا ایسے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ دہشت گرد انسانی زندگی کو احترام کم کیوں کرتے ہیں اور بار بار اسلام کا نام کیوں لیتے ہیں۔ جو لوگ اس تشویش میں مبتلا ہیں وہ یہ پوچھتے ہیں کہ ہم کیسے مان سکتے ہیں کہ جو قاتل اسلام کا نام لیتے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جرمن چانسلر نے کہا مسلمان علماء کو چاہیے کہ وہ ان سوالوں کا جلد جواب دیں۔