ایران کے خلاف پابندیوں کا بل ویٹو کردوں گا: اوباما

کانگریس فی الحال فائر روک لے، ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ پریس کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے امریکی کانگریس کے ارکان سے کہا ہے کہ ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیوں کو فی الحال روک کر تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر جاری مذاکراتی عمل بغیر کسی ناہمواری کے آگے بڑھ سکے۔

صدر اوباما نے اس امر اظہار وائٹ ہاوس میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے بھی اس موقع پر ایران کے خلاف مزید اقتصادی پابندیوں کو روکے رکھنے کی حمایت کی۔

اوباما نے کہا '' ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو منقطع کرنے اور زک پہنچانے کے لیے اس وقت تک کوئی دلیل اچھی نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ مذاکراتی عمل مکمل نہ ہو جائے۔'' اوباما کے بقول کانگریس کو تحمل دکھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا میرا پیغام کانگریس کے لیے یہی ہے کہ وہ اپنے فائر کو ذرا روکے رکھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈیموکریٹ قانون سازوں سے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ اگر ایسا کوئی بل ان کے سامنے آیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔

واضح رہے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا ، روس ، چین ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کے ایران کے ساتھ دوہزار تیرہ سے مذاکرات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ابتدائی نوعیت کا ایک معاہدہ چوبیس نومبر دوہزار تیرہ کو ہو گیا تھا البتہ چوبیس دسمبر دوہزار چودہ کی حتمی معاہدے کے لیے ڈیڈ لائن پوری نہ ہو سکی تھی۔ اب حتمی معاہدے کے لیے یکم جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

اوباما کا کہنا ہے کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔ لیکن اوباما نے کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس نے ایران پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی تو ایران مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کر سکتا ہے۔ صدر اوباما نے کہا دنیا میں موجود منطر نامے میں کچھ ہمدردیاں ہو سکتی ہیں اس صورت میں ہماری طرف سے پابندیاں لگائی گئیں تو ایک جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔

صدر نے خبردار کیا کانگریس کو آگاہ رہنا چاہیے کہ اگر سفارتی حل ناکام ہو گیا تو معاملہ ایران کے ساتھ فوجی تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔ '' میں نہیں کہہ رہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام رہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ امریکا لازمی ایک فوجی حل کے لیے کھڑا ہو گا۔''

امریکی صدر نے اس حساس معاملے پر بات کرتے مزید کہا '' اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اس حال کو نہیں پہنچنا چاہیے بلکہ مسئلے کے پر امن حل کے لیے کوشش جاری رکھنی چاہیے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں