یمن: حوثی گروپ 'انصار اللہ' حزب اللہ کا نیا ایڈیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خصوصی ایلچی علی شیرازی نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ یمن میں شورش میں سرگرم اہل تشیع مسلک کا حوثی گروپ "انصار اللہ" لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی ایک نئی شکل ہے جو یمن میں سر گرم عمل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثی گروپ جلد ہی اسلام دشمنوں کے خلاف ایک نئے محاذ میں داخل ہو جائے گا۔

فارسی نیوز ویب پورٹل" دفاع پریس" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علی شیرازی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران یمن کے حوثی گروپ اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ سمیت شام اور عراق کے کئی عسکری گروپوں کی براہ راست مدد کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مرشد اعلی کے مشیر نے اسرائیل کو بھی سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی دشمن کو کسی بھی وقت اور کہیں بھی اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہو گی۔ ان کا اشارہ چند روز قبل اسرائیل کے فضائی حملے میں شام میں حزاب اللہ کے چھ کمانڈوز اور پاسداران انقلاب کے ایک جنرل کی ہلاکت کے بعد تہران کی جانب سے اس کے ممکنہ ردعمل کی جانب تھا۔

یمن کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بات کرتے ہوئے علی شیرازی نے کہا کہ حوثی گروپ "انصاراللہ" کوئی چھوٹی تنظیم نہیں بلکہ وہ یمنی قوم کی نمائندہ جماعت ہے۔ اس کی جانب سے یمنی حکومت کے خلاف بغاوت "عوامی انقلاب" ہے۔ انہوں ‌نے کہا کہ ایران حوثیوں کو حزب اللہ کی مانند سمجھتا ہے۔

حزب اللہ لبنان میں‌ایرانی مفادات کا دفاع کر رہی ہے اور حوثی یمن میں کر رہے ہیں۔ انہوں‌ نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل لبنان میں حزب اللہ تشکیل دی گئی۔ اس کے بعد باسیج ملیشیا کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پھر شام اور عراق میں عوامی جماعتیں قائم کی گئیں جس کے بعد یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ کی تشکیل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اور انصار اللہ جیسی جماعتیں مستقبل میں اسلام دشمنوں کے خلاف ایک نئے محاذ میں داخل ہوں گی۔

خیال رہے کہ ایران کے کسی عہدیدار کی جانب سے یمن کے حوثی گروپ کی حمایت کا یہ پہلا بیان نہیں۔ اس سے قبل بھی ایرانی حکام کی جانب سے یمن کے حوثیوں کی کھلے عام حمایت کی جاتی رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں