.

سویڈش خواتین کی داعش میں شمولیت پر حکام پریشان

بڑے پیمانے پر شرکت روکنے کے لیے نئے سویڈش قوانین متعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن کی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے سال رواں میں اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے قوانین میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے قوانین کے ذریعے سویڈن سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین شدت پسندوں کو عراق وشام میں سرگرم دولت اسلامی"داعش" شمولیت کے لیے بیرون ملک سفر سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ سویڈن حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ سویڈن سے تعلق رکھنے والی چند لڑکیاں بھی داعش میں شمولیت کے لیے شام پہنچ چکی ہیں۔

نئی قانون سازی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سویڈش وزیر داخلہ انڈرچ ایگمان کا کہنا ہے کہ "حکومت انسداد دہشت گردی کے لیےایک نئی حکمت عملی وضع کر رہی ہے۔ انہوں‌نے کا کہ سنہ 2012ء میں دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے بنائے گئے قوانین اب پرانے ہو چکے ہیں۔ حالات حاضرہ کے مطابق ان میں ترامیم کی اشد ضرورت ہے۔

سویڈش ریڈیو "پی 1" سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ کہا کہ "پیرس میں دہشت گردانہ حملے،بیلجیئم میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی، عالمی حالات، سویڈن سے شہریوں کی شدت پسندوں میں شمولیت کے لیے بیرون ملک روانگی، داعش اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے دہشت گرد گروپوں کے بڑھتے اثرو نفوذ کے پیش نظر ہمیں سخت قوانین بنانے اور ان پرعمل درآمد کی ضرورت ہے۔

سویڈش داعشی دوشیزائوں کا معاملہ

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سویڈن کی کئی لڑکیوں کی دولت اسلامی"داعش" کی صفوں میں شمولیت کے لیے شام اور عراق آمد کی خبروں کے بعد ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سویڈن کے سرکاری ٹی وی کے پروگرام"ایجنڈہ" میں سویڈش لڑکیوں کی دولت اسلامی میں شمولیت کے لیے عراق اور شام روانگی پر گرما گرم بحث کی گئی اور اسے سویڈن کے امن استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔

پروگرام میں ‌پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش یورپی ممالک میں مقیم مسلمان خواتین کو متاثر کرنے اور انہیں اپنی صفوں میں شامل ہونے میں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں یورپی ممالک کی حکومتوں کی کاردگی بہت خراب ہے۔

سویڈن کی پولیس کے ایک سینئر عہدیدار کا ماننا ہے کہ بڑی تعداد میں خواتین بیرون ملک شدت پسند گروپوں سے ملنے کے لیے منصوبہ بندی کررہی ہیں۔ نیز حالیہ دنوں میں بیرون ملک سفر کرنے والی خواتین کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

سویڈش خواتین کی داعش میں شمولیت کیوں؟

سویڈن میں خواتین کی داعش میں شمولیت کے لیے بیرون ملک آمد ورفت کی خبریں تو تیزی سے پھیل رہی ہیں تاہم کوئی حکومتی عہدیدار یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ملک میں داعش ہی کی حمایت میں اس تیزی سے اضافہ کیوں ہو رہا ہے اور خواتین کی پسند صرف داعش ہی کیوں ہے؟۔

سویڈن کی سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون رہ نما منا سالین کا کہنا ہے کہ یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ آیا خواتین کی "چوائس" داعش ہی کیوں ہے تاہم یہ ایک نہایت خطرناک رحجان ہے جس کی حوصلہ شکنی کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں‌ نے کہا کہ خواتین کی داعش کی صفوں میں شمولیت ایک حساس مسئلہ ہے جسے ریاست کے تمام اداروں اور عوام کو مل کر نمٹنا ہو گا۔

انہوں ‌نے تسلیم کیا کہ داعش کی طرف خواتین کے بڑھتے رحجان کے اسباب معلوم نہیں ہو رہے ہیں۔ منا سالین کا کہنا تھا کہ سویڈن سے کچھ خواتین براہ راست جنگ میں حصہ لینے کے لیے داعش سے جا ملی ہیں جبکہ بعض جنگجوئوں سے شادیاں کرنے گئی ہیں یا جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ایک پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر ملکی تارکین وطن کے معاملے میں لاپرواہی سے بھی داعش کی طرف داری میں اضافہ ہوا ہے۔

خفیہ اداروں کی نگرانی

سویڈن کے داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے"سیبو" کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس حکام ملک میں مشتبہ افراد کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خفیہ ادارے دولت اسلامی"داعش" اور دوسرے شدت پسند گروپوں کی حمایت کرنے والوں کی مانیٹرنگ کے بعد ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی بھی کر رہے ہیں۔

"سیبو" کے سیکرٹری فررڈ ریک میلڈر نے سویڈش ریڈیو کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان افراد پر نظر رکھے ہوئے ہیں جنہوں‌نے حکومت سے پناہ کی درخواست کی ہے تاہم ساتھ ہی ان کے دولت اسلامی اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے بھی پائے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کا بڑھتا رحجان اور داعش کی حامیوں کی تعداد میں اضافہ سویڈش کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرے کا موجب ہے۔

خیال رہے کہ سویڈیش ایمیگریشن حکام نے گذشتہ برس 20 مشتبہ افراد کی نشاندہی کے بعد انہیں حراست میں لیا تھا۔ انہوں‌نے سویڈن میں قیام کے لیے درخواست دی تھی تاہم ان کے مشتبہ شدت پسندوں کے ساتھ رابطے بھی پائے گئے ہیں۔