.

داعش کے چنگل سے جاپانی کی رہائی تعطل کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاپان کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دولت اسلامی عراق و شام [داعش] کے ساتھ اردنی پائلٹ اور جاپانی صحافی کی رہائی کے لئے جاری مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہو گئے ہیں۔

عمان میں جاپان کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کے سربراہ یاسوہیدے ناکایاما نے اردن کے دارالحکومت میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی صحافی کینجی گوٹو اور اردنی پائلٹ معاذ الکساسبہ کی رہائی کے لئے کی جانیوالی کوششوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ" ہمیں ڈیڈ لاک کا سامنا ہے۔ ہم چوکنا رہتے ہوئے معلومات کا جائزہ لیتے رہے گے کیوںکہ حکومت ابھی تک کوششوں میں مصروف ہے۔"

ادھر ٹوکیو میں جاپانی کابینہ کے سیکریٹری اور جاپانی وزیر اعظم شینزو ایب کے اہم مشیر ہیروشیگے سیکو نے کہا ہے کہ حکومت اس بحران میں نئی معلومات کا انتظار کر رہی ہے۔

داعش نے اعلان کیا تھا کہ اگر عمان نے عراقی خاتون جنگجو کو رہا نہ کیا تو وہ جمعرات کو غروب آفتاب کے وقت کساسبہ کو قتل کر دے گی، یہ ڈیڈ گذرے دو دن ہو چکے ہیں۔


اردن نے مطالبہ کیا ہے کہ عراقی جنگجو خاتون ساجدہ الرشاوی کی رہائی سے قبل داعش 24 دسمبر کو شام سے حراست میں لئے جانے والے پائلٹ کے زندہ ہونے کا ثبوت دے۔

اردن نے 2005 میں عمان میں تین ہوٹلوں پر ہونے والے حملوں میں حصہ لینے والی خاتون رشاوی کو اردنی پائلٹ کی رہائی کے بدلے میں رہا کرنے کی پیشکش کی تھی۔ عمان میں 2005 میں ہونے والے حملوں میں 60 افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

اردنی حکومت کو اندرون ملک اور جاپان سے دبائو کا سامنا ہے کہ وہ کساسبہ کے ساتھ ساتھ گوٹو کی رہائی کے لئے بھی کوششیں کرے۔

داعش نے جمعرات کو غروب آفتاب کے وقت رشاوی کو ترک بارڈر کے پاس رہا کرنے اور اس کے بدلے گوٹو کی رہائی کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی مگر اس حوالے سے ابھی تک کوئی خبر سامنے نہیں آ سکی ہے۔

جاپان کو پچھلے ہفتے کے دوران فرنٹ لائن پر آنا پڑا جب ایک وڈیو میں گوٹو اور ایک کٹریکٹر حارونا یاکاوا کو صحرا میں گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے دیکھا گیا۔

ویڈیو میں ایک نقاب پوش خنجر بردار جنگجو نے کہا کہ اگر ٹوکیو ان دو شہریوں کی جان بچانا چاہتا ہے تو اسے 72 گھنٹوں میں 200 ملین ڈالر تاوان ادا کرنا پڑے گا۔

جب 72 گھنٹوں کی ڈیڈلائن ختم ہو گئی تو نئی تصاویر جاری کی گئی جس میں یاکاوا کا سر بریدہ لاش دکھائی گئی جبکہ ایک آڈیو میسج جاری کیا گیا جس میں گوٹو نے اپنی پہچان کروا کر الرشاوی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔