.

جنوبی یمن میں فوج اور مسلح جنگجوئوں میں تصادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی جنوبی گورنری حضر موت میں مسلح شدت پسندوں ‌اور فوج کے درمیان پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران خونریز تصادم کی اطلاعات ہیں۔

"العربیہ" ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حضر موت گورنری کے القطن کے علاقے میں‌ سوموار کے روز سیکیورٹی فورسز اور مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جو آج منگل کو بھی جاری ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی میں دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر درمیانے اور ہلکے درجے کے ہتھیاروں سے حملے کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں طرف جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔

فی الوقت یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ قطن میں سیکیورٹی فورسز پر تازہ حملہ القاعدہ نے کیا ہے یا حوثی شدت پسندوں کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے۔ لڑائی سے چندے قبل القطن میں حوثی شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات آئی تھیں اور بتایا گیا تھا کہ حوثیوں کا ایک گروپ فوج کی وردی میں القطن میں پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

صنعاء حکومت کے ایک دوسرے ذریعے نے"العربیہ" کو بتایا کہ حوثی ملیشیا کا ایک گروپ حضر موت کے المکلا ہوائی اڈے پر پہنچا ہے جس نے مبینہ طور پر فوج اور پولیس کی وردی پہن رکھی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حوثیوں کی القطن اور حضر موت کے دوسرے مقامات تک رسائی میں فوج کی اسپیشل فورس کے بریگیڈیئر جنرل عبدالرزاق المرونی کی سازش سے ہوئی ہے کیونکہ جنرل المرونی کا اپنا تعلق بھی حوثیوں کے ساتھ ہے۔ اس کے حوثی شدت پسندوں کا کارروائیوں سے روکنے میں تساہل سے کام لیا جس کے نتیجے میں مسلح جنگجو شہر میں داخل ہونے میں‌ کامیاب ہوئے ہیں۔