.

امریکا میں مسلمان طلبہ کا قتل، جامعہ الازہر کا مذمتی بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی معروف دینی درسگاہ نے امریکی بندوق بردار کے ہاتھوں تین مسلمان طلبہ کے دن دیہاڑے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'دہشت گردانہ اور نسل پرستانہ' اقدام قرار دیا ہے۔

جامعہ الازہر سے جاری ہونے والے بیان میں مسلمان طلبہ کے قتل پر شدید صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چیپل ہل کے واقعے سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔

فیس بک پر مذہب مخالف پیغامات پوسٹ کرنے والے ایک امریکی شہری نے گذشتہ روز ہمسایوں سے جھگڑے کے بعد انہیں قتل کر دیا تھا۔

امریکا میں سرگرم مسلمانوں اور دنیا بھر میں اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے امریکا سے اس قتل کے محرکات جاننے کی خاطر وسیع البنیاد تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ امریکی پولیس نے قتل کی بہیمانہ واردات کو ہمسایوں کے درمیان پارکنگ کے تنازع پر ہونے والی توں تکار کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے امکانی طور پر اس کے ڈانڈے مذہبی منافرت کے اقدام سے ملانے کی کوشش بھی کی تھی۔

مسلمان فیملی کے قاتل کریگ اسٹیفن ہکس کو پہلے درجے کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ ماضی میں اپنے سماجی نیٹ ورک اکاونٹس کے ذریعے تقریبا تمام ہی ادیان کے خلاف ہرزہ سرائی کیا کرتا تھا۔