.

حوثی باغی اقتدار سے الگ ہو جائیں: سلامتی کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں شیعہ حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقتدار سے علاحدہ ہو جائیں۔

اس قرارداد پر عملدرآمد کے لیے فوجی کارروائی نہیں کی جا سکتی جس کے لیے یمن کے خلیجی ہمسائے زور دیتے رہے ہیں۔
حوثی باغی اپنے شمالی گڑھ سے جنوب کی طرف مزید علاقہ زیرِ قبضہ لا رہے ہیں جو انہیں یمن میں القاعدہ ار دوسرے سنی گروہوں کے مدِ مقابل لا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے اور دوسری جانب امریکا اور دوسرے ممالک نے یمن میں اپنے سفارت خانے بند کر دیے ہیں۔

یو این قرارداد میں حوثیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’فوری اور غیر مشروط‘ طور پر حکومتی اداروں سے نکل جائیں۔ قرارداد میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی گھر میں نظر بندی ختم کر کے اُنہیں آزاد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس قرارداد میں حوثیوں کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی صورت میں ’مزید اقدامات کرنے پر آمادگی‘ کی بات کی گئی ہے مگر اس کی وضاحت نہیں کی ہے۔

خلیج تعاون کونسل میں بحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جن کی خواہش تھی کہ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کے باب نمبر سات کے تحت منظور کی جائے جس کے نتیجے میں طاقت اور پابندیوں کے ذریعے عملدرآمد کروایا سکتا ہے۔