''ایرانی انتہا پسند تکفیریوں سے کم خطرناک نہیں''
انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے فقہ کی تدوین نو کی جائے: رفسنجانی
ایران کی مصالحتی کونسل کے سربراہ اور سابق صدرعلی اکبرہاشمی رفسنجانی نے اپنے ملک میں موجود شدت پسند عناصر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی انتہا پسند تکفیریوں سے کم خطرناک نہیں ہیں۔
''تکفیریوں'' سےاُن کی مراد اہل سنت مسلک کے پرتشدد گروپ ہیں جو مختلف مسلمان ملکوں میں عسکری کارروائیوں میں بھی ملوّث ہیں۔ہاشمی رفسنجانی نے ان خیالات کا اظہار ایرانی انقلاب کی چھتیسویں سالگرہ کی مناسبت سے اخبار''جمہوری اسلامی'' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔
انھوں نے ایران کی موجودہ داخلی اور خارجی صورت حال پر بھی روشنی ڈالی۔انھوں نے دستوری کونسل کے چیئرمین علی جنتی کے اس بیان کی بھی شدید مذمت کی ہے جس میں انھوں نے سعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات پرتعزیت کے بجائے مبارک باد پیش کی تھی۔
انھوں نے آیت اللہ جنتی کے بیان کو''انتہا پسندانہ رحجان'' کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی انتہا پسند خطے کے تکفیری جہادیوں سے کم خطرناک نہیں ہیں۔
شیعہ اور سنی انتہا پسند گروپوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ''ہم میں سے بعض نے پوری دنیا میں انقلاب برپا کرنے اور اسلامی حکومتیں قائم کرنے کے ٹھیکے لے رکھے ہیں۔ اس رحجان نے انتہا پسندی کو جنم دیا اور شدت پسندانہ طرز عمل کی حوصلہ افزائی کی ہے''۔
ایک سوال کے جواب میں ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ ایران کو انتہا پسندی کا ''عارضہ'' انقلاب کے ساتھ ہی لاحق ہو گیا تھا۔انھوں نے مسلم دنیا میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اسلامی فقہ کی از سرنو تدوین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فقہی مسائل پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے ورنہ انتہاپسندی ختم نہیں ہو سکے گی۔