.

طرابلس:ایرانی سفیر کی خالی قیام گاہ پر بم حملہ

داعش نے ایرانی سفیر کی قیام گاہ میں دو دھماکوں کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے لیبیا میں متعیّن ایرانی سفیر کی دارالحکومت طرابلس میں واقع قیام گاہ کے اندر اور باہر دو دھماکوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

لیبیا کے سکیورٹی حکام کے مطابق طرابلس کے وسط میں واقع ایرانی سفیر کی قیام گاہ کے بیرونی دروازے پر اتوار کو پہلے ایک دھماکا ہوا ہے اور اس کے بعد دھماکا خیز مواد عمارت کے احاطے میں کھلے میدان میں پھینکا گیا تھا لیکن عمارت خالی ہونے کی وجہ سے اس کے پھٹنے سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔

ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ حملے کے وقت محافظ بھی اپنی چوکی میں موجود نہیں تھا۔ایرانی سفیر کی قیام گاہ شہر کے اس حصے میں واقع ہے جہاں بہت سے ممالک کے سفارت خانے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں نزدیک واقع یوکرین کے سفارت خانے کی کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔

داعش نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ ''خلافت (داعش) کے جنگجوؤں نے طرابلس میں ایرانی سفیر کی قیام گاہ پر دھماکا خیز مواد سے دو مرتبہ حملہ کیا ہے''۔

ایرانی ردعمل

ادھر تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے کہا ہے کہ دھماکوں سے سفیر کی جائے قیام کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔انھوں نے لیبیا میں جاری تنازعے کو طے کرنے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے متحارب فریقوں کے درمیان سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایران لیبیا میں بیرونی مداخلت کا مخالف ہے اور وہاں متحارب دھڑوں کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں قومی اتحاد کی حکومت قائم کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ طرابلس پر مختلف اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کا گذشتہ سال اگست سے قبضہ ہے اور مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کی دارالحکومت میں عمل داری ختم ہونے کے بعد بہت سے ممالک نے اپنے سفیروں اور سفارتی عملہ کو واپس بلا لیا تھا اور اپنے سفارت خانوں کو بند کردیا تھا۔

داعش نے قبل ازیں جنوری میں طرابلس میں الجزائر کے خالی سفارت خانے پر بھی حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس بم حملے کے نتیجے میں ایک سکیورٹی گارڈ اور دو راہ گیر زخمی ہوگئے تھے۔داعش کے جنگجو اب آہستہ آہستہ لیبیا کے مختلف علاقوں میں اپنے قدم جما رہے ہیں اور انھوں نے عراق اور شام کے طرز پر خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں بھی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔انھوں نے گذشتہ اتوار کو لیبیا میں اغوا کیے گئے اکیس قبطی عیسائی مصریوں کے سرقلم کرنے کی ویڈیو جاری کی تھی جس کے بعد مصر کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ سوموار کو مشرقی شہر درنہ میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔