فیصلہ کن طوفان: یمن میں حوثیوں کے کیمپوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فورسز نے جمعہ کو مسلسل دوسرے روز یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف ''آپریشن فیصلہ کن طوفان''جاری رکھا ہوا ہے اور ان کے طیاروں نے دارالحکومت صنعا میں ری پبلکن گارڈ کے ایک کیمپ پر بمباری کی ہے۔

اس حملے سے قبل صنعا میں جمعرات کی شب اتحادی طیاروں کی بمباری کے بعد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اتحادی فورسز نے صنعا کے مغرب میں واقع الاستقلال ملٹری کیمپ میں حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

عینی شاہدین نے مزید بتایا ہے کہ اتحادی طیاروں نے صنعا کے شمال میں واقع ایک فوجی کیمپ کو تباہ کردیا ہے۔یہ کیمپ سابق یمنی صدر کے بیٹے احمد علی صالح کے وفادار فوجیوں اور جنگجوؤں کے زیر استعمال تھا۔سعودی عرب کے طیاروں نے آپریشن ''فیصلہ کن طوفان'' کے تحت یمن کے جنوبی علاقوں میں بھی بمباری کی ہے جہاں حوثی اور ان کے اتحادی توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔طیاروں نے العند فوجی کیمپ کو بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔اس کیمپ پر حوثیوں نے بدھ کے روز قبضہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ یمن کے ری پبلکن گارڈ سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک معزول صدر علی عبداللہ صالح کی وفاداری ہی کا دم بھر رہے ہیں حالانکہ وہ 2011ء میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار سے سبکدوش ہوچکے ہیں۔

علی عبداللہ صالح خود بھی حوثی باغیوں کی طرح شیعہ زیدی ہیں۔وہ یمن کے موجودہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے شدید ناقد ہیں اور انھوں نے حالیہ مہینوں کے دوران حوثی باغیوں کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا تھا۔بہت سے یمنیوں کا خیال ہے کہ انھوں نے ہی حوثیوں کو ملک کے جنوبی شہروں پر چڑھائی کی ترغیب وتحریک دی تھی اور اپنے وفاداروں کو ان کی حمایت پر آمادہ کیا تھا۔ان کے بیٹے احمد علی عبداللہ صالح کے زیر قیادت جنگجو حوثیوں کے شانہ بشانہ صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز کے خلاف لڑرہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں