ایران کے ساتھ معاہدہ نظرثانی کے لئے پیش کیا جائے: سپیکر ایوان نمائندگان
امریکی سیاسی جماعت ریپلکن پارٹی کے ارکان نے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں سے متعلق شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاہدے کو مکمل کرنے سے پہلے کانگریس کو اس کی تمام شرائط پر نظر ثانی کی اجازت دی جائے۔
امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان فریم ورک معاہدے کو تارِیخی مفاہمت قرار دیا گیا ہے اور بیشتر امریکی پارلیمانی اور سینٹ اراکین نے محتاط انداز سے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے رکن اور امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بوہنر نے وائٹ ہائوس کے اولین مقاصد سے خطرناک علاحدگی قرار دیتے ہوئے رائے دی ہے کہ اوباما انتظامیہ ایرانی مذاکرات کاروں کے سامنے کمزور پڑگئی اور انہوں نے کچھ آسانیاں فراہم کردی ہے۔
بوہنر نے ایک بیان میں کہا کہ "مجھے سب سے فوری خدشہ یہی ہے کہ اتنظامیہ یہ اشارے دے رہی ہے کہ وہ جلد ہی ایران پر عائد پابندیاں اٹھادے گی۔ کانگریس کو اجازت دی جائے کہ وہ پابندیوں کو اٹھائے جانے سے پہلے کسی بھی معاہدے کی تفصیلات پر بھرپور طریقے سے نظر ثانی کرے۔"
وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ایران پر پابندیاں صرف اسی وقت ختم کی جائیں گی جب عالمی ایجنسی برائے جوہری توانائی [آئی اے ای اے] اس بات کی تصدیق کردے گی کہ ایران نے نیوکلئیر معاملات سے متعلق تمام اہم شرائط کو پورا کردیا ہے۔ مگر ایران کی طرف سے کسی بھی سستی کے باعث یہ پابندیاں دوبارہ لگا دی جائیں گی۔
ریپبلکن اراکین میں سے ایران کے سب سے بڑے نقادوں میں شامل امریکی سینیٹر مارک کرک نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا "نیول چیمبرلین نے ایڈولف ہٹلر سے اس سے پہلے شرائط پر معاہدہ کرلیا تھا۔" ان کا اشارہ 1930 کی دہائی میں برطانوی وزیراعظم اور ان کی نازیوں سے صلح کے تباہ کن معاہدے کی طرف تھا۔
اوباما نے اراکین پارلیمان کو خبردار کیا کہ اگر کانگریس اس معاہدے کو ختم کردیتی ہے تو امریکا پر سفارتی تعلقات کو ناکام بنانے کا پورا الزام ڈال دیا جائے گا۔
فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش نے معاہدہ کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے میں ایسی قوم کو آسانیاں فراہم کی گئی ہیں جو کہ امریکا کی موت اور اسرائیل کی تباہی کا مطالبہ کرتا ہے۔
بش کا کہنا تھا "اوباما انتظامیہ کی جانب سے پیش کئے جانے والے معاہدہ میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جس سے امریکا اور عالمی پابندیوں کو اٹھانے کا جواز پیدا ہوتا ہو۔"
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چئیرمین باب کورکر نے اراکین پر زور دیا کہ وہ ایران پر کڑِی نظر رکھیں اور ایک بار پھر اصرار کیا کہ کوئی بھی حتمی معاہدہ منظوری سے قبل کانگریس کے سامنے پیش کیا جائے۔
امریکی سینٹ میں اقلیتی جماعت کے رہنما ہیری ریڈ کا کہنا تھا کہ وہ اس معاہدے سے متعلق محتاط انداز میں پر امید ہیں اور انہوں نے کانگریس میں کسی فوری کارروائی سے خبردار کیا۔
"آنے والے دنوں میں ہم سب کو احتیاط سے تفصیلات کی جانچ پڑتال کرنی چاہئیے ہے اور اس انتہائی اہم عمل کو پورا ہونے کے لئے وقت دینا چاہئیے ہے۔"
-
ایران معاہدہ، اوباما اور شاہ سلمان کے درمیان ٹیلی فون رابطہ
امریکی صدر براک اوباما نے امریکا اور عالمی مذاکرات کاروں کے ایران کے جوہری پروگرام ...
بين الاقوامى -
ایران پر پابندیوں کا خاتمہ ؟ ابھی سمجھوتا نہیں ہوا:فرانس
فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیئس نے چھے بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے ...
بين الاقوامى -
ایران جوہری سمجھوتے کے لیے مذاکرات طویل تر
ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان ڈیڈلائن گزر جانے کے باوجود سوئٹزر لینڈ کے شہر ...
بين الاقوامى -
ایران مذاکرات:جوہری معاہدے میں تین رکاوٹیں حائل
ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان سوئٹزر لینڈ کے شہر لاؤسین میں جوہری تنازعے پر ...
بين الاقوامى -
ایران کا ذخیرہ شدہ یورینیم بیرون ملک بھجوانے سےانکار
ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں افزودہ کیے گئے یورینیم کے ذخائر بیرون ملک نہیں ...
بين الاقوامى -
سوڈان کا ایران سے ناطہ توڑنے میں شہزادہ محمد بن سلمان کا کردار!
سوڈان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی تعلقات میں کئی نشیب و فراز آئے۔ ریاض سے ...
بين الاقوامى