.

اسرائیل کمزور ہوا تو یہ میری صدارت کی ناکامی ہوگی: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل کی موجودہ حکومت کے ساتھ کشیدگی کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ میرے دور حکومت یا میری وجہ سے اسرائیل کا کمزور ہونا خود میری صدارت کی ناکامی کا باعث بنے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے سے متعلق اسرائیل سے اختلافات کےعلی الرغم دونوں ملکوں کےدرمیان تمام شعبوں میں تعاون جاری رہے گا۔

اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کودیے گئے ایک انٹرویو میں صدراوباما کا کہنا تھا کہ ’’اگر میرے کسی ایسے کام یا میرے دور صدارت میں اسرائیل کمزور ہوتا ہے تو یہ میری صدارت کی ایک بڑی ناکامی ہوگی۔"

انہوں نے کہا کہ "یہ ناکامی نہ صرف تزویراتی ہوگی بلکہ اخلاقی ناکامی بھی ہوگی۔ اسرائیل اور امریکا کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے حوالے سے اختلافات ہیں مگر وہ ایسے بھی نہیں کہ ان کی بنیاد پر واشنگٹن اور تل ابیب ایک دوسرے سے رابطے بھی منطقع کر دیں۔ اس حوالے سے میری اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے بات بھی ہوئی۔ میں نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر ڈیل کا مطلب اسرائیل کے دفاع میں کمی کرنا ہرگز نہیں ہے۔ ہم اسرائیل کا استحکام اور دفاع کرتے رہے ہیں۔"

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مرحلہ وار معاہدے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بدترین فیصلہ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ کر کے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کا موقع دیا گیا۔ ایک ایسے ملک کو جو مشرق وسطیٰ میں جنگ اور اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا ہے کا ایٹمی طاقت بننا نہایت خطرناک ہے۔

خیال رہے کہ امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل گروپ چھ نے گذشتہ جمعرات کو سوئٹرزلینڈ کے شہر لوزان میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک معاہدے پراتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد اسرائیلی میڈیا نے ایران سے ڈیل کرنے والے ممالک کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔