.

امریکا: ری پبلکنز کا ایران معاہدے پر ووٹنگ کے لیے دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی کانگریس کو ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر ووٹنگ کرنے کی اجازت دی جائے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے سے قبل عبوری معاہدے کی تکمیل تک انتظار کر لیں گے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چئیرمین باب کروکر کا کہنا تھا "دیکھیے صدر اوباما کو یہ معاہدہ امریکی عوام کو بیچنا ہے اور کانگریس کو اس عمل میں شامل ہونا پڑے گا۔"

کروکر نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے فریم ورک معاہدے کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا مگر انہوں نے ایران کی تنصیبات کے معائنے اور معاہدے کی شقوں سے متعلق واشنگٹن اور تہران کے متضاد بیانات پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

امریکی ریاست ٹینیسی سے منتخب سینیٹر کا کہنا تھا کہ ان کی کمیٹی 14 اپریل کو ایران کے ساتھ ہونے والے کسی حتمی معاہدے کی منظوری سے قبل سینٹ میں نظر ثانی اور اس کی منظوری کے لیے ووٹںگ کروائے گی۔ فریم ورک معاہدے کے تحت حتمی معاہدہ جون کے اواخر تک مکمل کرلیا جائے گا۔

اس بل کو ری پبلکنز اور بہت سے ڈیموکریٹ سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس بل کے نتیجے میں اوباما کانگریس کی جانب سے معاہدے پر نظرثانی کے 60 دن کے عرصے کے دوران ایران سے پابندیاں نہیں اٹھا سکیں گے۔ اس عرصے کے دوران کانگریس معاہدے کو منظور یا نامنظور کرسکتی ہے اور اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں کوئی قدم اٹھائے بغیر بھی یہ عرصہ گزار سکتی ہے۔

کروکر نے یہ اعتراف کیا کہ اس قانون کی حمایت کرنے والے اراکین کو سینٹ میں کسی بھی بل کی منظوری اور صد اوباما کے ویٹو کی نفی کرنے کے لیے ضروری 67 ووٹ حاصل ہوں گے یا نہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا "میرے خیال میں سینیٹر کروکر ایسے فرد ہیں جو اس معاملے کے حوالے سے سنجیدگی سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ ایک اچھے اور مخلص آدمی ہیں اور میری امید ہے کہ ہم کوئی ایسا حل تلاش کرسکیں جن سے کانگریس کی رائے کا اظہار ہوجائے اور امریکی صدر کے روایتی اختیارات کی راہ میں رکاوٹ بھی نہ آئے اور اس حل سے یہ یقینی بن جائے کہ ہمیں اچھی شرائط پر معاہدہ مل گیا ہے جس پر ہم فوری طور پر عمل درآمد کرسکیں۔

ڈیموکریٹ اراکین کی اہمیت

ری پبلکنز اس معاملے پر متحد ہیں اور اس معاملے میں سب سے اہم کردار صدر اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین سینٹ کا ہوگا۔

ان اراکین میں سے بہت سے ایران پر بھروسا نہیں کرتے ہیں اور ان کو خطرہ ہے کہ عالمی قوتوں کی جانب سے تصدیقی اقدامات پوری طرح سے کارگر نہیں ہیں۔ انہیں اسرائیل کی طاقتور لابنگ کا سامنا ہے اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اس معاہدے کو اپنے ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ جانتے ہیں۔

بہت سے ڈیموکریٹ اس معاہدے میں ایران کے کردار پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں مگر وہ امریکی صدر کو اس قسم کی بڑی خارجہ پالیسی کے میدان میں شکست سے آشنا نہیں ہونے دیں گے۔