.

یمنی فوج کے بریگیڈ 111 اور 112کا صدرھادی سے وفاداری کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغیوں اور قبائل کے درمیان بعض شہروں میں گھمسان کی جنگ کی اطلاعات ہیں۔ مآرب شہر کے قبائل نے لڑائی میں حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے درجنوں حامیوں کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ کم سے کم چھ حوثیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ ہلاکتیں دارالحکومت صنعاء سے 170 کلومیٹر مشرق میں واقع مآرب گورنری کے مقام صرواح پر ہوئیں۔

ادھر مآرب میں قبائل کے ترجمان الشیخ صالح الانجف نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ فوج کے بریگیڈ 111 اور 112 نے جو اس سے قبل سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار سمجھے جاتے تھے، ملک میں آئینی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے صدر عبد ربہ منصور ھادی سے وفاداری کا عہد کیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ حوثی باغیوں کے ساتھ تازہ لڑائی میں چھ قبائلی جنگجو ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔

الشیخ صالح الانجف نے بتایا کہ صوبہ سباء سے بڑی تعداد میں قبائلی جنگجو اب صنعاء کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔ ہم دارالحکومت سے حوثیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائل کے پاس حوثیوں کو دارالحکومت سے نکال باہر کرنے کی پوری صلاحیت ہے اور جلد ہی حکومتی اداروں سے حوثیوں کا صفایا کردیا جائے گا۔

انہوں نے ملک کے تمام قبائل کو سعودی عرب کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف جاری ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن کی حمایت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے اندرون ملک سے بھی مدد کی ضرورت ہے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں الشبوہ گورنری میں موجود بریگیڈ 19 پر الواحدی قبیلے نے اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے۔ گذشتہ ہفتے کو اس بریگیڈ کے چیف آپریشنز میجر جنر خالد الخطیب کو مسلح افراد نے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں قتل کردیا تھا۔

قبائلی ذرائع نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ الواحدی قبیلے کے جنگجوئوں نے اتوار کے روز دو گھنٹے تک بریگیڈ 19 کا میفعہ کے مقام پر محاصرہ کئے رکھا۔ قبائلی جنگجوئوں اور فوجیوں کے درمیان مذاکرات کے بعد فوج اپنے ٹینکوں اور دیگر فوجی گاڑیوں کے ساتھ وہاں سے نکل گئے اوربریگیڈ کیمپ پر الواحدی قبیلے نے اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے۔ شبوہ گورنری میں الواحدی قبیلے کے زیر کنٹرول فوج کا ایک دوسرا بڑا کیمپ ہے۔