اماراتی ولی عہد کی امریکی صدر سے ملاقات

دونوں رہ نمائوں میں علاقائی اور عالمی امور تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ امریکی دورے کے دوران وائٹ ہائوس میں صدر باراک اوباما سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات سمیت علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اماراتی ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے سوموار کو وائٹ ہائوس میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب امریکی صدر جو بائیڈن بھی موجود تھے۔

امریکی صدر نے متحدہ عرب امارات کے وفد کے دورے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ان کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حل میں بھی مدد ملے گی۔

دونوں رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مشترکہ تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ۔

اس موقع پر اماراتی ولی عہد کا کہنا تھا کہ الشیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان کی قیادت میں متحدہ عرب امارات امریکا کے ساتھ تعلقات اورتمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ صدر اوباما نے متحدہ عرب امارات کے سربراہ کے حوالے سے اپنی نیک تمنائوں کا اظہارکیا اور ان کے لیے جذبہ خیر سگالی کا پیغام بھیجا۔ ملاقات میں نیشنل سیکیورٹی کے ایڈوائز الشخ طحنون بن زاید آل نھیان اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھی موجود تھے۔

متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ اختیاراتی وفد اور امریکی حکام کے درمیان ہوئی ملاقات میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے پر بھی تبادلہ خیا کیا گیا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایران عالمی برادری سے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے حتمی معاہدے میں اس بات کی یقین دہائی کرائے کہ اس کے وہ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہے اور اس کے جوہری پروگرام سے خطے کے ممالک کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ نیز ایران کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس کے ذریعے خطے کی دوسرے ممالک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں۔

اماراتی ولی عہد نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی جانب سے ایران کے جوہری تنازع کے حل کے لیے کامیاب سفارتی کوششوں پرانہیں مبارک باد بھی پیش کی اور ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کی قیادت میں امریکی دورے پرآئے وفد نے امریکی حکام سے ملاقاتوں میں یمن، شام اور لیبیا میں جاری شورش پربھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ان ملکوں میں جاری فسادات کے بارے میں یو اے ای کے موقف سے آگاہ کیا۔

اماراتی وفد نے امریکی حکام سےبات چیت میں کہا کہ لیبیا، یمن اور شام میں مخصوص گروپ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے نہتے عوام کا قتل عام کررہے ہیں۔ اماراتی وفد نے یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خلیجی تعاون کونسل کے تیار کردہ امن فارمولے پرعمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے کہا کہ ان کا ملک سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں بھرپور تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے خلاف آپریشن نہ صرف یمن کی سلامتی، خود مختاری اور وحدت کے لیے ضروری ہے بلکہ عرب خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

ملاقات میں شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے خلاف جاری فوجی آپریشن پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے رہ نمائوں نے داعش اور دیگر شدت پسند گروپوں کو خطے میں تیزی سے پھیلنے سے روکنے کے آپریشن مو مزید سخت کرنےپر اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں