.

یمن میں لاپتا مراکشی پائلٹ کی فرضی میت کی کوئی حیثیت نہیں:عسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں پچھلے ہفتے لاپتا ہونے والے مراکش کے "ایف 16" جنگی جہاز کے پائلٹ کے زندہ یا مردہ ہونے کے بارے میں ابھی تک کسی قسم کی مصدقہ معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ لاپتا پائلٹ کا کوئی فرضی جسد خاکی نہیں ملا ہے۔ دوسری جانب سعودی محکمہ دفاع کے ترجمان جنرل احمد عسیری نے کہا ہے کہ ابھی تک ان کے پاس لاپتا پائلٹ کے بارے میں کسی قسم کی ٹھوس معلومات نہیں ہیں۔ تاہم اتحادی ممالک ریڈ کراس کی ٹیم کے توسط سے حوثیوں سے پائلٹ کے بارے میں معلومات کے حصول کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے "ہم گم ہونے والے طیارے کے مراکشی ہواباز کی فرضی میت کے بارے میں غیر مصدقہ داستانوں یقین نہیں رکھتے ہیں۔ ہم اس حوالے سے پوری چھان بین کررہے ہیں کہ آیا مراکشی پائلٹ زندہ ہے یا حادثے میں مارا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ریڈ کراس کے ذریعے حوثیوں تک رسائی کے بعد ہی درست معلومات مل سکیں‌ گی۔"

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک کا سرکاری موقف یہی ہے کہ ابھی تک مراکشی پائلٹ "لاپتا" ہے تاہم اس ضمن میں ریڈ کراس کی ٹیموں کے ساتھ ہمارے مسلسل رابطے ہیں۔ کسی بھی قسم کی مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ہی مراکشی حکومت اور پائلٹ کے اہل خانہ کو خبر دی جائے گی۔

یمن میں ہنگامی بنیادوں پر ایک طیارہ بھجوائے جانے کے بارے میں انہوں‌ نے کہا کہ طیارہ بھیجے کا مقصد لاپتا پائلٹ کا سراغ لگانے کے لیے جاری مساعی کو تیز کرنا ہے۔ طیارہ میت کے حصول کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔

’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ لاپتا مراکشی پائلٹ کی میت ملنے کے بعد میت کی کسی غیر جانب دار تنظیم کے تحت اس کا "ڈی این اے" کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ پچھلے ہفتے مراکش کا ایک "ایف 16" جنگی جہاز یمن میں لاپتا ہوگیا تھا۔ یہ جہاز مراکش کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی آپریشن میں شامل کیا گیا تھا۔ آپریشن کے ترجمان جنرل عسیری نے مراکشی جہاز کے حادثے کی تصدیق کی تھی تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا پائلٹ زندہ بچا ہے یا حادثے کا شکار ہوا ہے۔