.

بم حملے کے مقتولین کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں گذشتہ جمعہ کو ایک مسجد میں خودکش بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے اکیس افراد کی اجتماعی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ہے۔

قطیف شہر میں سوموار کو مقتولین کی نماز جنازہ کے بعد میتوں کو تدفین کے لیے القدیح کے قبرستان میں لے جایا گیا جہاں مسجد امام علی بن ابی طالب میں نماز جمعہ کے دوران بم دھماکا ہوا تھا۔

مقتولین کی تجہیز وتکفین کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مقامی حکام نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مقامی رضاکاروں کو بھی چیک پوائنٹس پر تعینات کیا گیا تھا۔

القدیح میں دہشت گردی کے اس واقعے کی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے لے کر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون تک عالمی رہ نماؤں نے شدید مذمت کی ہے اور شاہ سلمان کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر اور ان کے ہمدردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

جنازے میں شریک القدیح کے ایک مکین ایمن علاوی ابو راحی کا کہنا تھا کہ ''شیعہ کمیونٹی کی حیثیت سے ہمیں دھماکوں کا کوئی خوف نہیں ہے۔ہم دہشت گردوں کی مذمت کرتے ہیں لیکن اہل سنت کی نہیں۔وہ تو ہماری مساجد ہی میں نمازیں ادا کرتے ہیں''۔

عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قابض سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی تھی اور یہ پہلا موقع تھا کہ اس جنگجو گروپ نے سعودی عرب میں اس طرح کا ایک بڑا بم حملہ کیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ خودکش بمبار کے داعش کے ساتھ روابط استوار تھے۔سعودی مملکت میں گذشتہ کئی سال کے بعد یہ سب سے تباہ کن بم دھماکا تھا۔گذشتہ سال نومبر میں مشرقی صوبے کے قصبے الدلوہ میں اہل تشیع کے ایک اجتماع پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں سات افراد مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ سنی اکثریتی سعودی عرب میں زیادہ تر اہل تشیع تیل کی دولت سے مالامال مشرقی علاقوں میں آباد ہیں۔سعودی عرب اور اس کے ہمسایہ خلیجی ممالک گذشتہ سال سے شام میں داعش کے خلاف امریکا کی قیادت میں فضائی مہم میں شریک ہیں اور انھوں نے پڑوسی ملک یمن میں بھی الگ سے حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف 26 مارچ سے فضائی مہم شروع کررکھی ہے۔

سعودی عرب کی داعش مخالف جنگ میں شرکت کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ یہ جنگجو گروپ سعودی سرزمین پر جوابی حملے کرسکتا ہے اور اس نے ایسا ہی کیا ہے اور سعودی معاشرے میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور اس کے امن واستحکام کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی ہے۔