.

الدمام میں مسجد کے باہر خودکش بم دھماکا، چار ہلاک

سعودی اہلکاروں نے حملہ آور کی مسجد پر کار بم حملے کی کوشش ناکام بنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی شہر الدمام میں ایک مسجد کے باہر ایک حملہ آور بمبار نے بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور نے نماز جمعہ کی ادائی کے وقت الدمام شہر میں واقع مسجد العنود پر کار بم حملے کی کوشش تھی لیکن سعودی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے یہ کوشش ناکام بنا دی ہے جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو مسجد کے نزدیک کھڑی ایک مشتبہ کار کے بارے میں شک گزرا تھا۔وہ جب اس کی جانب جانے لگے تو اس نے کار کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس کے بعد نزدیک کھڑی متعدد کاروں کو آگ گئی۔

مہلوکین میں سے ایک کے بارے میں شُبہ ہے کہ وہ دھماکے میں استعمال ہونے والی کار کا ڈرائیور تھا۔الدمام کے مکینوں نے انٹرنیٹ پر اس مبینہ خودکش بمبار کی مسخ شدہ لاش اور تباہ شدہ گاڑیوں کی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔

بعض عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور نے جامع مسجد العنود میں نمازجمعہ کے دوران نمازیوں کو حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کو ایک شخص نے پکڑ لیا۔اس دوران اس نے بم دھماکا کردیا۔اس کے نتیجے میں مسجد کے باہر کھڑی متعدد کاروں کو آگ لگ گئی۔

گذشتہ جمعہ کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں واقع قصبے القدیح میں نماز کی ادائی کے دوران اسی انداز میں اہل تشیع کی ایک مسجد میں خودکش بم حملہ کیا گیا تھا۔اس بم حملے میں اکیس افراد جاں بحق اور اسّی سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے وابستہ ایک سعودی گروپ نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ سعودی حکام نے خودکش بمبار کی شناخت صالح بن عبدالرحمان صالح القشعمی کے نام سے کی تھی اور داعش سے وابستہ ایک سیل کے چھبیس ارکان کو گرفتار کرلیا تھا۔سعودی وزارت داخلہ کے مطابق خودکش بمبار کے داعش کے ساتھ روابط استوار تھے۔

یہ پہلا موقع تھا کہ داعش سے وابستہ گروپ نے سعودی عرب میں اس طرح کا بڑا بم حملہ کیا تھا۔گذشتہ سال نومبر میں مشرقی صوبے کے قصبے الدلوہ میں اہل تشیع کے ایک اجتماع پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں سات افراد مارے گئے تھے۔

دمام میں بم دھماکے کے بعد کا منظر
دمام میں بم دھماکے کے بعد کا منظر