.

اخوان پر فوج، عدلیہ پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام

تنظیم سے وابستہ تخریب کار عناصر گرفتار کرنے کا حکومتی دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سیکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون سے وابستہ شدت پسندوں کی فوج اور ججوں پر حملوں کی ایک خطرناک سازش ناکام بناتے ہوئے کئی مشتبہ تخریب کاروں کو حراست میں لیا ہے۔ مصری سیکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ اخوان المسلمون نے ججوں، مسلح افواج کے اہم عہدیداروں، صحافیوں اور سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیارکیا گیا تھا جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

مصری وزارت داخلہ کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے انٹیٰلی جنس معلومات کی بنیاد پر اخوان المسلمون کے حمایت یافتہ ایک دہشت گرد سیل کا پتا چلایا ہے جسے بیرون ملک اور اخوان المسلمون کی عالمی تنظیم کی بھی معاونت حاصل ہے۔ اس گروپ نے ملکی مفاد کو نقصان پہنچانے کے لیے جعلی خبریں پھیلانے کے ساتھ ساتھ تخریب کاروں کو فوج اور پولیس سمیت اہم شخصیات کی ای میل کو نقب لگانے کی تربیت فراہم کرنے اورحکومت میں بدنظمی پھیلانے کی تربیت دی گئی ہے۔

سہ فریقی گروپ

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری سیکیورٹی فورسز کے دعوے کے مطابق ملک میں افراتفری پھیلانے کے لیے اخوان المسلمون کی جانب سےتشکیل کردہ گروپ میں تین الگ الگ یونٹ قائم کیے گئے ہیں۔ ایک یونٹ کے ذمہ فوج، پولیس اور اہم اداروں کے مواصلاتی نظام تک رسائی کے بعد اسے ہیک کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دوسرے یونٹ کے ذمہ فوجی عہدیداروں، پولیس افسران اور اہم سیاسی و ابلاغی شخصیات کو حملوں کا نشانہ بنانے کے لیے اسلحہ اور مالی معاونت کا ٹاسک دیا گیا جب کہ تیسرے گروپ کو 'وی آئی پی' شخصیات کی نقل وحرکت کے بارے میں دوسرے دونوں گروپوں کو معلومات فراہم کرنا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ گروپ سابق صدر محمد مرسی کے دور حکومت میں سنہ 2012ء میں تشکیل دیا گیا تھا اور اس کی تشکیل میں جماعت کے نائب مرشد عام خیرت الشاطر، مفرور رہ نما محمود عزت، محمود حسین ،ایم جاب اللہ، ایمن محمدعلی اور جماعت کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت شامل تھی۔

سیکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کی جانب سے فوج، پولیس اور ججوں پرحملوں کی خاطر مبینہ طورپر تشکیل کردہ گروپ کے کئی عناصرکو حراست میں لینے کے بعد ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ حراست میں لیے گئے تمام افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔