.

بحرین: عراق میں تربیت یافتہ دہشت گردوں کی سازش ناکام

کالعدم جنگجو گروپ پر لوگوں کو عسکری تربیت کے لیے عراق بھیجنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرینی حکام نے ملک میں عراق میں تربیت یافتہ جنگجوؤں کے دہشت گردی کے ایک حملے کی سازش ناکام بنا دی ہے۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''تحقیقات کے بعد مملکت میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوّث افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔وہ حکومت مخالف ایک گروپ سرایا الاشتر کے نام سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے''۔

بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی بی این اے کے مطابق گرفتار افراد نے کالعدم جنگجو گروپ کا رکن ہونے کی تصدیق کی ہے اور ان میں سے بعض کو پولیس اہلکاروں کو حملوں میں ہدف بنانے کے لیے ایک دہشت گرد گروپ تشکیل دینے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

بی این اے نے مزید بتایا ہے کہ سرایا الاشتر کے نام سے گروپ سنہ 2012ء میں دو افراد چھبیس سالہ احمد یوسف سرہان اور انتالیس سالہ جاسم احمد عبداللہ نے تشکیل دیا تھا اور اب یہ دونوں افراد فرار ہوکر ایران جاچکے ہیں۔

ان دونوں جنگجوؤں پر بحرین میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوّث ہونے اور اپنے گروپ کے لیے افراد بھرتی کرنے کا الزام ہے۔سنہ 2014ء کے آخر میں ان دونوں نے مبینہ طور پر اپنے بھرتی کنندگان کو عراق میں حزب اللہ بریگیڈز نامی جنگجو گروپ کے ہاں دھماکاخیز مواد تیار کرنے اور ہتھیار چلانے سمیت عسکری تربیت کے لیے بھیجا تھا۔