.

ایران میں زہریلے کیمیکل سے چار سعودی بچوں کی موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی القطیف گورنری سے تعلق رکھنے والے چار بچے ایران کے شہر مشہد میں واقع ایک ہوٹل میں قیام کے دوران زہریلے کیمیکل سے موت کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ اٹھارہ افراد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

متاثرہ خاندان کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا ہے کہ یہ چاروں بچے ہوٹل کے جس کمرے میں ٹھہرے ہوئے تھے،وہاں کیمیکل مادے کا اخراج ہوا تھا اور یہ ہوٹل کے مرکزی ائیر کنڈیشننگ کے پائپوں سے آیا تھا۔

اس ذریعے نے بتایا ہے کہ القطیف سے تعلق رکھنے والا خاندان گذشتہ جمعہ کو چھٹیاں گزارنے کے لیے مشہد گیا تھا اور زہرخورانی کا یہ واقعہ ان کی مشہد میں آمد کے اڑتالیس گھنٹے کے بعد پیش آیا تھا۔ایران کے سکیورٹی حکام نے اس افسوسناک واقعے کے بعد ہوٹل کو عارضی طور پر بند کردیا ہے۔

مرنے والے بچوں کے نام حیدر علی قاسم ،شیرخوار حسین علی العوامی ،حسن عبدالغنی الفخر اور بچی دیما عبدالغنی الفخر ہیں۔موخر الذکر دونوں متوفی بچوں کے والد عبدالغنی الفخر ،ان کی اہلیہ اور ایک بیٹا محمد کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے اور وہ اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرعلاج ہیں۔

درایں اثناء ایران میں سعودی عرب کے قائم مقام قونصل جنرل عبداللہ الحمرانی نے کہا ہے کہ قونصل خانہ واقعے کی تفصیل جاننے کے لیے ایرانی حکام سے رابطے میں ہے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ قونصل خانے نے اسپتال کے ساتھ ایک ہاٹ لائن قائم کردی ہے تاکہ زیرعلاج مریضوں کے عزیز واقارب ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرسکیں۔