یمن: دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا کا کمانڈر قتل

الضامر اور مآرب میں صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز کے حوثیوں پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کے دارالحکومت صنعا میں مسلح افراد نے حوثی شیعہ باغیوں کے ایک کمانڈر کو فائرنگ کر کے قتل کردیا ہے جبکہ ملک کے دوسرے علاقوں میں جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز نے حوثی باغیوں پر حملے تیز کردیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایک موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے حوثی کمانڈر ابراہیم حسن الشرفی کے مکان پر جمعرات کی شب حملہ کیا تھا۔وہ ان پر فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔حوثیوں کے المسیرہ ٹیلی ویژن نے حوثی کمانڈر کے قتل کی تصدیق کی ہے۔

قبائلی ذرائع نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ مسلح افراد نے صنعا سے شمال میں حوثیوں کے ایک چیک پوائنٹ پر مشین گنوں اور راکٹ گرینیڈوں سے حملہ کیا ہے جس سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

صنعا کے جنوب میں شیعہ اکثریتی صوبے الضامر میں بھی حکومت نواز فورسز نے حوثی باغیوں کے ایک ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔

درایں اثناء سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔اتحادی طیاروں نے وسطی شہر البیضا میں باغیوں کے زیر قبضہ ایک فوجی کیمپ اور تیل کی دولت سے مالا مال مشرقی صوبے مآرب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

یمن میں جاری لڑائی اور سعودی اتحادیوں کے حملوں میں شدت کے تناظر میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے جنگ بندی کے لیے از سرنو کوششیں شروع کردی ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے صنعا اور الریاض میں یمنی فریقوں سے الگ الگ مذاکرات کرنے والے ہیں۔جنیوا میں اقوام متحدہ کے ترجمان احمد فوزی نے نیوز بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ خصوصی ایلچی ان دونوں دارالحکومتوں میں مزید وقت گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ یہاں جنیوا میں تیار کیے گئے جنگ بندی کے ابتدائی سمجھوتے پر فریقین کا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں