.

تیونس میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے شہر سوسہ میں دہشت گردوں کے سیاحتی مقام پر 26 جون کو کئے جانے والے حملے میں 30 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد صدر الباجی قائد السبسی نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی۔

ہنگامی حالت کے اعلان سے پولیس اور مسلح افواج کو غیر معمولی اختیارات مل گئے ہیں۔

یاد رہے سنہ 2011ء میں عوامی بیداری تحریک کے بعد سابق صدر زین العابدین بن علی کے ملک سے فرار کے بعد تیونس میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی تھی۔ یہ ہنگامی حالت مارچ 2014 تک بغیر کسی وقفے کے نافذ رہی۔

تیونس میں عوامی انقلاب کے بعد سے ملک میں انتہا پسندی کی لہر چل رہی ہے جس کے نتیجے میں دسیوں پولیس اور فوجی اہلکار جان گنوا چکے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامی قبول کر چکی ہے۔

تیونس میں ہونے والے دو دہشت گردی کے بڑے حملوں میں ابتک 59 سیاح ہلاک ہو چکے ہیں۔ اکیس سیاحوں کی ہلاکت مارچ کو بارود میوزیم دھماکے میں ہوئی جبکہ 38 غیر ملکی سیاح گذشتہ ماہ 26 تاریخ کو سوسہ میں کئے جانے والے حملے میں مارے گئے۔

جمعہ کے روز تیونسی وزیر اعظم الحبیب الصید نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سوسہ حملے کے بعد پولیس تاخیر سے جائے حادثہ پر پہنچی۔