پوتن، بشار الاسد کی حمایت سے 'دستکش' ہو رہے ہیں: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ روس نے بھی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت پر مبنی اپنی پالیسی میں نرمی دکھانا شروع کی ہے اور ولادی میر پوتن بھی اب دھیرے دھیرے صدر اسد کی پشت پناہی اور حمایت سے پیچھے ہٹنا شروع ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ترک صدر نے چین اور انڈونیشیا کے دورے سے واپسی پر ہوائی جہاز میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کی جانب سے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت اب ماضی جیسی نہیں رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ روس کی شام کے بارے میں پالیسی میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے اور اب صد ولادی میر پوتن بشار الاسد کی حمایت سے "دستکش" ہو رہے ہیں۔

صدر ایردوآن کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچھلے ہفتے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے طویل اورتفصیلی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں بھی شام کا معاملہ زیربحث رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ روسی صدر کی "بدن بولی" اب ماضی کی طرح صدر بشارالاسد کی حمایت کے حوالے سے کافی تبدیل ہوچکی ہے۔ وہ اس حقیقت کا ادراک کرنے لگے ہیں کہ شام میں اسد رجیم کی مسلسل حمایت مسئلے کا حل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ترک صدر کے شام سے متعلق روس کے 'بدلتے موقف' کے بارے میں ان خیالات کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ترکی شام اور عراق کے اندر کرد باغیوں اور دولت اسلامی "داعش" کے ٹھکانوں پر بمباری کررہا ہے۔ اگرچہ شام اور عراق میں ترک فوج کی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے کیونکہ جب سے ترکی نے "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے نام سے عراق اور شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کی ہے"داعش" کے ٹھکانوں پر صرف تین فضائی حملے کیے گئے ہیں جب کہ کرد علاحدگی پسند جماعت "کردستان لیبر پارٹی" اور اس کی حلیف کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے مراکز پر دسیوں فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں